خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 3
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۹؍ دسمبر ۱۹۶۵ء۔افتتاحی خطاب دعائیں کریں کہ وہ دن رات آپ کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔وہ آپ پر کوئی احسان نہیں کر رہے بلکہ وہ اپنے مولا ، اپنے آقا کی رضا کے طلب گار ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی اس خواہش کو پورا کرے اور آپ کو بھی یہ توفیق دے کہ جن روحانی خزائن سے جھولیاں بھرنے کے لئے آپ یہاں تشریف لائے ہیں اس میں آپ کامیاب ہوں اور آپ کے یہاں پہنچنے کا دن اس دن سے کم تر ہو جس میں آپ یہاں سے واپس جائیں اور آپ کی روانگی کا دن آپ کو بلند تر مقام پر پہنچا کر یہاں سے رخصت کرنے والا ہو۔تیسرا جو دعا ئیں آپ یہاں کریں ان میں اپنے واقفین زندگی بھائیوں کو بھی یادرکھیں جو اشاعت اسلام کے لئے اکناف عالم میں پھیلے ہوئے ہیں۔پھر آپ کے لاکھوں ہم وطن بھائی ایسے ہیں جن کو ابھی تک ربوہ آنے کی بھی توفیق نہیں ملی کیونکہ ان کے حالات ہی کچھ ایسے ہیں۔ان کے دل تڑپتے ہیں لیکن بعض حالات کی وجہ سے وہ مجبور ہیں۔ان کے اندر اس قدر اخلاص ہے اس قد را خلاص ہے کہ آپ اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔میں نے ان دنوں باہر سے آنے والے ہزاروں خطوط پڑھے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر ایک خط لکھنے والا اسلام کی محبت، احمدیت کی محبت اور حضرت مصلح موعودؓ کی محبت میں تڑپ رہا ہے۔یہ چند دن ان کے لئے بڑے سخت تھے جن میں سے وہ گزرے۔وہ بھی آپ کی دعاؤں کے محتاج ہیں اور مستحق ہیں کہ آپ انہیں اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔اللہ تعالیٰ نے دُور افتادہ ممالک میں بسنے والوں پر احمدیت اور اسلام کے قبول کرنے کی وجہ سے بڑا فضل کیا ہے اور ان کے دلوں کی حالت کو کلیتہ بدل دیا ہے۔ان کو وہی سمجھ سکتا ہے جو وہاں جا کر ان سے ملا ہو یا کثرت سے اس نے ان کے خطوط پڑھے ہوں۔آدمی حیران ہوتا ہے کہ نہ کبھی وہ یہاں آئے اور نہ کبھی مرکز کو دیکھا اور نہ مرکز کے رہنے والوں سے بات چیت کی نہ صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت انہیں نصیب ہوئی لیکن ان کے دل ہیں کہ اخلاص سے بھرے ہوئے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق سے بھرے ہوئے ہیں۔گویا ایک آگ ہے جو ان کے دلوں میں بھڑک رہی ہے کہ کاش وہ لوگ بھی جو اس نعمت سے ابھی تک محروم ہیں اس نعمت کو پالیں اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے اسی طرح وارث ہوں جس طرح