خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 73
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۷۳ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب یہاں تک کہ وہ اپنے وجود اور ارادہ اور خواہش سے بکلی کھوئے جاتے ہیں اور عظمت الہی کا پُر جوش دریا ان کے دلوں پر ایسا محیط ہو جاتا ہے کہ ہزار ہا طور کی نیستی ان پر وارد ہو جاتی ہے اور شرک خفی کے ہر یک رگ وریشہ سے بکلی پاک اور منزہ ہو جاتے ہیں۔“ ( براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد نمبر اصفه۴۳٬۵۴۲ ۵ح درح) پس یہ تو صاحب کمال ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا جلوہ دیکھنے کے لئے اپنا سب کچھ اس عظمت و جلال کے اندرکھو بیٹھتے ہیں لیکن جس میں کوئی بھی کمال نہ ہو وہ خود کو کن الفاظ یاد کرے میں تو اکثر سوچتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام۔متعلق جب یہ کہیں اور انسانوں کو نہیں خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہیں کرم خا کی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار تو میرے جیسا انسان اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سامنے کن الفاظ میں پیش کرے لیکن اس تمام نیستی کے باوجود جو میں اپنے نفس میں اپنے لئے پاتا ہوں۔میں یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس مقام پر کھڑا کیا ہے اس مقام کی حفاظت کا ذمہ خود اس نے لیا ہے اور جب تک وہ مجھے زندہ رکھنا چاہے گا۔اس کا قادر و توانا اور قوی ہاتھ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا اور جس طرف بھی خدا تعالیٰ میری رہنمائی فرماتے ہوئے جماعت کو ترقی کے لئے لے جانا چاہے گا اس میں برکت ہوگی اور اگر کوئی شخص اس راستہ کو چھوڑے گا تو وہ ناکام رہے گا۔اس لئے نہیں کہ مجھے میں کوئی خوبی یا طاقت ہے بلکہ اس لئے کہ جس وجود نے مجھے اس مقام پر کھڑا کیا ہے تمام خوبیاں اور طاقتیں اس کو حاصل ہیں اور جب کہ آپ نے ابھی حضرت مصلح موعودؓ کی ایک پیشگوئی میں یہ سنا ہے کہ: ” جو میرے بعد آئے گا وہ بھی ایک انسان ہی ہوگا۔جس کے زمانہ میں فتوحات ہوں گی میں یقین کے ساتھ تو نہیں کہہ سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایسا کوئی علم نہیں دیا کہ وہ بعد میں آنے والا میں ہی ہوں لیکن میں پورے یقین کے ساتھ آپ کو کہہ سکتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ اگر وہ چاہے اور ارادہ کرے تو وہ میرے جیسے ناکارہ وجود سے سب کام لے سکتا ہے