خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 66
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۶ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب فتوحات ہوں گی۔وہ اکیلا سب کو نہیں سکھا سکے گا تم ہی لوگ ان کے معلم بنو گے۔پس اس وقت تم خود سیکھوتا ان کو سکھا سکو۔خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ دنیا کے لئے پروفیسر بنا دیے جاؤ اس لئے تمہارے لئے ضروری ہے اور بہت ضروری ہے کہ تم خود پڑھو تا آنے والوں کے لئے استاد بن سکو۔اگر تم نے خود نہ پڑھا تو ان کو کیا پڑھاؤ گے۔ایک نادان اور جاہل استاد کسی شاگرد کو کیا پڑھا سکتا ہے (انوار خلافت۔انوار العلوم جلد ۳ صفحہ ۱۷۰) ۱۹۱۴ء میں آپ نے یہ پیشگوئی فرمائی۔پہلا فرض خلیفہ کا تبلیغ ہے جہاں تک میں نے غور کیا ہے۔میں نہیں جانتا کیوں بچپن ہی سے میری طبیعت میں تبلیغ کا شوق رہا ہے اور تبلیغ سے ایسا انس رہا ہے کہ میں سمجھ ہی نہیں سکتا۔میں چھوٹی سی عمر میں بھی ایسی دعائیں کرتا تھا اور مجھے ایسی حرص تھی کہ اسلام کا جو کام بھی ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو میں اپنی اس خواہش کے زمانہ سے واقف نہیں کہ کب سے ہے۔میں جب دیکھتا تھا اپنے اندر اس جوش کو پاتا تھا اور دعائیں کرتا تھا کہ اسلام کا جو کام ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو پھر اتنا ہو اتنا ہو کہ قیامت تک کوئی زمانہ ایسانہ ہو جس میں اسلام کی خدمت کرنے والے میرے شاگرد نہ ہوں میں نہیں سمجھتا تھا اور نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ جوش اسلام کی خدمت کا میری فطرت میں کیوں ڈالا گیا۔ہاں اتنا جانتا ہوں کہ یہ جوش بہت پرانا ہے۔غرض اسی جوش اور خواہش کی بناء پر میں نے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ میرے ہاتھ سے تبلیغ اسلام کا کام ہو۔اور میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے میری ان دعاؤں کے جواب میں بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں غرض تبلیغ کے کام سے مجھے بڑی دلچسپی ہے یہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور یہ بھی جانتا ہوں کہ سب دنیا ایک مذہب پر جمع نہیں ہوسکتی اور یہ بھی سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جس کام کو نہیں کر سکے اور کون ہے جو اسے کر سکے یا اس کا نام بھی لے لیکن اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی خادم اور غلام توفیق دیا جاوے کہ ایک حد تک تبلیغ اسلام کے کام کو کرے تو یہ اس کی اپنی کوئی خوبی اور کمال نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا کام ہے میرے دل میں تبلیغ کے لئے اتنی تڑپ تھی