خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 745
میرے نزدیک جماعت احمدیہ اور میں ایک دس پندرہ منٹ کا بھی وقت ملتا ہے تو حضرت مسیح موعود ہی وجود کا نام ہے ۲۱۷ کی کوئی کتاب پڑھنی شروع کر دیتا ہوں اور وہ وقت ضیاع سے بچ جاتا ہے جماعت احمدیہ پر یہ فرض ہے کہ وہ میرے اگر میں اس طرح دوستوں کی خوابوں کی معروف احکام کی اطاعت کرے میں قرآن کریم کے احکام اور نبی کریم کے اسوہ کا پابند ہوں اور پوپ پر ایسی کوئی پابندی نہیں اللہ تعالیٰ نے شروع خلافت میں ہی اس ۲۱۷ ۲۱۷ تعبیر کرنے لگوں تو غالباً جماعت کا اور کوئی کام نہ کرسکوں میں اللہ تعالیٰ سے کہہ دیا کرتا ہوں کہ میں تو ایک حقیر بندہ ہوں اگر تو مجھے علم سکھائے گا تو میں بیان کروں گا عاجز اور بالکل کم مایہ بندے سے یہ وعدہ کیا میں نہ سوشلزم کے حق میں ہوں اور نہ سرمایہ داری تھا کہ تینوں میں اینا دیواں گا کہ تو رج کے حق میں میں تو اسلام کے حق میں ہوں جائیں گا“ ۲۵۴ اللہ تعالیٰ کے سکھائے بغیر میں کچھ جانتا نہیں میرے دل میں تو کبھی گھبراہٹ پیدا نہیں اور اُس کی طاقت اور مدد کے بغیر میں کچھ ۲۷۹ نہیں کر سکتا ہوتی کہ پیسے کہاں سے آئیں گے میں نے جب اللہ تعالیٰ کا کام کرنا ہو تو قادیان میں سکھ بعض دفعہ بڑی شرارتیں کیا کرتے تھے یعنی اگر کبھی وہ حملہ کر دیں تو اُن بیماری کا احساس نہیں ہوتا میں خدا کی عظمت اور اس کے جلال سے ہر وقت کا نیتا رہتا ہوں میری جان آپ پر قربان میں ہمیشہ آپ ۲۹۵ ۳۴۴ سے جا کر لڑا بھی کرتے تھے بچو! خدا نے مجھے اپنے فضل سے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ تمہارا خاندان تمہیں نہیں پڑھا سکتا تو میں تمہارے پڑھانے کا ذمہ لیتا ہوں کے لئے ہر رنگ میں دعائیں کرتا رہتا ہوں تم کہتے ہو کہ پاکستان میں اسلام خطرے سارا سال جو دعائیں میں آپ دوستوں میں ہے میں بتاتا ہوں کہ ساری دنیا میں کے لئے کرتا رہتا ہوں وہ سورۃ فاتحہ کی اسلام کے علاوہ ہر مذہب خطرے میں ہے ۳۴۷ میں کہتا ہوں کہ میں اور آپ ایک وجود ہیں دعائیں ہیں تفسیر قرآن سرہانے رکھنی چاہیئے میرے تو تو میرے ساتھ آپ کو بھی پریشان رہنا سر ہانے پڑی رہتی ہے ۳۵۴ پڑے گا ۳۵۴ ۳۵۶ ۴۰۵ ۴۱۸ ۴۴۳ ۴۴۸ ۴۵۷ ۴۵۹ ۴۶۰