خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 720
بہر حال محرومی ایک لعنت ہے اور مظلوم ہونا اس کے فضل کو جذب کر نے کے لئے سر کبھی لعنتی بنانے کا ایک آلہ ہے ع عاجزی تذلل اور فروتنی اور انکسار اور بے نفسی کے نقوش سجائیں ۴۹۴ اونچے نہیں ہوا کرتے بلکہ جھکتے جھکتے زمین ۱۸۲ کے ساتھ لگ جاتے ہیں عرب ۵۷۰ عرب ممالک میں تبلیغ اور بیعتوں کا تذکرہ ۲۷۵،۲۷۴ عزت کمال ادب اور کمال نیستی اور تذلل اختیار عزتوں کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ ہے اور ذلتوں کا کر کے عبادت میں لگ جاؤ ۲۴۰ منبع اس سے دوری ہے جو شخص اپنے نفس کے عجز کو پہچان لیتا ہے عزت نفس ۲۹۹ اس کے دل پر تکبر اور غرورحملہ نہیں کیا کرتا ۴۴۰ ہر وقت استغفار کرتے رہیں اپنی عاجزی کا کرنے کا نعرہ لگا دیا گیا اظہار کرتے رہیں انسان تو عاجز ہے اس کو اپنے بجز کا ہی اقرار کرنا چاہیئے اپنی عاجزانہ کیفیت اور عاجزانہ مقام کو نہ بھولیں اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں سے کبھی غافل نہ ہوں اللہ تعالیٰ کے فضل کے حصول کے لئے عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنا پڑتا ہے ۴۴۰ ۴۶۹ ۵۳۰ ۵۷۰ ہر انسان کی عزت اور اس کے احترام کو قائم عزتیں اسی طرح قربان ہوتی ہیں کہ گالیاں سنیں اور ہنس پڑیں معاف کرنے کی عادت ڈالو خدا کے بندوں عفو سے پیار کرو علم تم اپنے علم پر غرور کرو اور نہ اپنے اعمال پر ناز ۴۸۳ ۵۰۹ ۴۳۸ ۳۸ ۸۴ ہمارے بچے دین اور دنیا کے علوم زیادہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے زیادہ حاصل کرتے رہیں اپنی روح کو پانی کی طرح اس کے آستانہ پر اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں کے ذہنوں میں جلاء بہانا پڑتا ہے ۵۷۰ پیدا کرے اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے دنیا کی ہر مخلوق کو اپنے وجود سمیت لاشئی علم کا ملنا بھی اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے وہی معلم حقیقی ہے محض سمجھنا پڑتا ہے ۵۷۰ ۳۵۴