خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 661 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 661

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۶۱ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب --- ہے، اسے تاریخ کی ایک کتاب سمجھیں تو اس کا ایک باب اس صدی کے اختتام پرختم ہوگا اور پھر ایک دوسرا باب کھلے گا اور ہم نے اپنے رب کے حضور اس موقع پر اس عزم کا اظہار کرنا ہے کہ پہلی صدی میں ہم نے بنیادیں بنائیں۔کچھ عمارتیں بھی کھڑی کیس ابھی اسلام کی عمارت اتنی بلند نہیں ہوئی اور نہ اس میں اتنی وسعت پیدا ہوئی ہے کہ اس میں ساری دنیا سما سکے۔پس حمد اور عزم یہ دو لفظ ہیں جن کا انتہائی مظاہرہ انشاء اللہ تعالی ۱۹۸۹ء میں ہماری طرف سے کیا جائے گاو باللہ التوفیق اور اس حمد اور اس عزم کے عظیم مظاہرے کے لئے قرآن کریم کی عین ہدایت کے مطابق ہم نے تیاری کرنی ہے۔اشاعت اسلام کے پروگرام بنانے ہیں۔خدا کی راہ میں قربانیاں دینی ہیں۔نئی نئی سکیمیں سوچنی ہیں۔چنانچہ اس ضمن میں میں اپنا وہ منصوبہ جس کا میں نے وعدہ کیا تھا اس وقت آپ کے سامنے رکھوں گا۔یہ جو جشن منایا جائے گا یہ محض جلسہ سالانہ کے موقع پر نہیں منایا جائے گا بلکہ وہ سال جشن کا سال ہوگا۔اس سال ہم ۲۳ / مارچ سے جشن منانا شروع کریں گے اور ہمارے جذبات کا اظہار اور خدا کے حضور ہمارے عزم کا اظہار اور فضاؤں کو خدا کی حمد سے بھر دینے کا جو عمل ہے اس کی ابتدا ء ۲۳ مارچ ۱۹۸۹ء کو ہو گی۔گویا وہاں سے جشن شروع ہوگا اور پھر ۱۹۸۹ء کے جلسہ سالانہ پر یہ اپنے عروج پر پہنچے گا اور اس کی ابتداء مکانات سے ہوگی۔اس کی تفصیل میں مجلس مشاورت کے موقع جماعت کو بتا دوں گا۔ہم اس کی ابتداء کریں گے گھروں سے، پھر محلوں سے، پھر قصبوں اور شہروں سے اور پھر ملکوں سے اور پھر مختلف براعظموں کے لحاظ سے اور پھر ہم ساری دنیا کے احمدی اپنے نمائندوں کے ذریعہ یہاں جمع ہو کر خدائے قادر و توانا کی حمد کے گیت گائیں گے۔جب میں ساری دنیا کے نمائندوں کی بات کرتا ہوں تو اس سے اپنے پر بھی ذمہ داری ڈالتا ہوں۔اس سال غیر ممالک سے چودہ وفود آئے ہیں اور ہمارے دل بڑے خوش ہیں۔جس سے باتیں کرتا ہوں اس کا دل خوشی سے بھرا ہوا پاتا ہوں۔لوگ سمجھتے ہیں ہمیں اسی دنیا میں جنت مل گئی لیکن سولہ سال کے اندر میری خواہش ہے اور اس کے لئے ہم نے کوشش کرنی ہے۔باقی جہاں تک نتیجہ کا تعلق ہے ہو گا۔وہی جو خدا چاہے گا لیکن ہم نے اپنی عاجزانہ دعاؤں اور تدبیر سے یہ کوشش کرنی ہے کہ دنیا کا ایک ملک بھی ایسا نہ رہے جہاں کے وفود ۱۹۸۹ء کے جلسہ سالانہ پر نہ آئے ہوں۔اس کے لئے ہم نے بڑی تیاری کرنی ہے۔اس سلسلہ