خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 54
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۴ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب اور آ کر ہم سے مقابلہ کرے۔مجھے تجربہ کے ذریعہ ثابت ہو گیا ہے کہ اسلام ہی زندہ مذہب ہے اور کوئی مذہب اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ ہماری دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے اور ایسے حالات میں قبول کرتا ہے جبکہ ظاہری سامان بالکل مخالف ہوتے ہیں اور یہی اسلام کے زندہ مذہب ہونے کی بہت بڑی علامت ہے۔اگر کسی کو شک وشبہ ہے تو آئے اور آزمائے ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔اگر کوئی ایسے لوگ ہیں۔جنہیں یقین ہے کہ ہمارا مذہب زندہ ہے تو آئیں ان کے ساتھ جو خدا کا تعلق اور محبت ہے اس کا ثبوت دیں۔اگر خدا کو ان سے محبت ہوگی تو وہ مقابلہ میں ضرور ان کی مدد اور تائید کرے گا۔۔۔۔۔میں ان کو چیلنج دیتا ہوں کہ مقابلہ پر آئیں۔تاکہ ثابت ہو کہ خدا کس کی مدد کرتا ہے اور کس کی دعا سنتا ہے۔آپ لوگوں کو چاہئے کہ اپنی طرف سے لوگوں کو اس مقابلہ کے لئے کھڑا کریں۔لیکن اس کے لئے یہ نہیں ہے کہ ہر ایک کھڑا ہو کر کہہ دے کہ میں مقابلہ کرتا ہوں بلکہ ان کو مقابلہ پر آنا چاہیے۔جو کسی مذہب یا فرقہ کے قائم مقام ہوں۔اُس وقت دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ خدا کس کی دعا قبول کرتا ہے۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہماری ہی دعا قبول ہو گی افسوس ہے کہ مختلف مذاہب کے بڑے لوگ اس مقابلہ پر آنے سے ڈرتے ہیں۔اگر وہ مقابلہ کے لئے نکلیں تو ان کو ایسی شکست نصیب ہوگی کہ پھر مقابلہ کرنے کی انہیں جرات ہی نہ رہے گی ( زندہ مذہب انوار العلوم جلد نمبر ۳ صفحه۶۱۲ ۶۱۳) ۱۹۳۶ء میں آپ نے دنیا کو یہ چیلنج دیا: قرآن کریم کو وہ عظمت حاصل ہے جو دنیا کی اور کسی کتاب کو حاصل نہیں اور اگر کسی کا یہ دعوی ہو کہ اس کی مذہبی کتاب بھی اس فضیلت کی حامل ہے تو میں چیلنج دیتا ہوں کہ وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی وید کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی توریت کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے۔اگر کوئی انجیل کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آئے اور قرآن کریم کا کوئی ایسا استعارہ میرے سامنے رکھ دے جس کو میں بھی استعارہ سمجھوں۔پھر میں اس کا حل قرآن کریم سے ہی پیش نہ کر دوں تو وہ بیشک مجھے اس دعوی میں جھوٹا سمجھے لیکن اگر پیش کر دوں تو اُسے ماننا پڑے گا کہ واقعہ میں قرآن کریم کے سوا دنیا کی اور کوئی