خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 627 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 627

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۲۷ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطا۔ہے اور میں نے اپنے بچوں کو کہا کہ تم نے سائیکل کی سواری کی طرف توجہ دینی ہے خدا کی مخلوق کی خدمت کے لئے۔تو گاؤں سے روئی اکٹھی کرو اور روئی اُگانے والے علاقہ کا زمیندار ایک لحاف کی تین سیر روٹی دے دے۔جس نے دو چارا یکٹر میں بھی کپاس لگائی ہے۔اُس کے لئے تین سیر روئی دینا کوئی بات نہیں ہے۔اتنی روئی تو چوہیاں اُٹھا کر لے جاتیں ہیں اور واپس کچھ نہیں دیتیں۔یہاں تو آپ دیں گے تو خدا تعالیٰ کے فرشتے خدا تعالیٰ کے فضلوں سے آپ کی جھولیاں بھر دیں گے۔بہر حال میں نے اندازہ لگایا کہ تین سیر روئی فی لحاف ڈالیں گے۔اس حساب سے میں نے جماعت کو کہا کہ مجھے چھ سوسیر روئی چاہئے۔تو سات آٹھ سوسیر روئی آگئی اور ساتھ روپے بھی آگئے اور معمول کے سولحافوں کے بجائے اس سال دو سولحافوں کا ارادہ تھا مگر اس کے مقابلہ میں قریباً ساڑھے تین سولحاف بن گئے۔تو یہ برکت ہے۔اس لئے دنیا ہمیں دولت مند سمجھتی ہے اور کئی مرتبہ مجھ سے بھی کوئی بات کرتا ہے تو میں کہتا ہوں الحمد للہ مجھے دولت مل گئی کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہمارے پیسے میں برکت بڑی دی ہے ہمارے پاس اتنا پیسہ نہیں جتنا دوسروں کے پاس ہے لیکن پیسے میں برکت بڑی ہے۔یہاں جب کا لج بنا تو میں پرنسپل تھا۔لاہور میں ہمیں تنگ کیا جاتا تھا کہ ڈی اے وی کی بلڈنگ جماعت کی ضرورت سے زیادہ دے دی گئی ہے اور حکومت نے بڑا احسان ان پر کیا ہے اور ٹوٹی پھوٹی وہ عمارت اور اسی ہزار روپے کے قریب تو اس کے ایک حصہ پر ہمارا خرچ ہو گیا۔تب ہم وہ کالج چلا سکے۔خیر مجھے غیرت آئی کہ یہ لوگ اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں؟ اُس وقت میں نے اس شاندار کالج کا جواب بن چکا ہے ایک نقشہ بنایا اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا۔حضرت صاحب سے میں نے کہا کہ آپ کہتے ہیں جلدی آؤ اور حکومت بھی لوگوں کے اعتراضات سے تنگ آئی ہوئی ہے۔تو میں یہ نقشہ بنا کر لایا ہوں آپ منظوری دے دیں تو میں کام کروں اور ہم یہاں آجائیں۔وہ بڑا سا نقشہ دیکھ کر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ یہ نقشہ تو تم میرے پاس لے آئے ہو لیکن میں تمہیں بتادوں کہ اس قسم کی عمارت بنانے کے لئے میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے جرات دی میں نے کہا کہ میں اس وقت پیسے مانگنے نہیں آیا۔میں صرف نقشہ منظور کروانے آیا ہوں۔فرمانے لگے نہیں میں تمہیں ایک لاکھ روپیہ کالج کے لئے اور پچاس ہزار روپیہ ہوٹل کی تعمیر کے لئے دے سکتا ہوں