خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 601
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۰۱ ۱۲۸ دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب ایک بندے کی روح میں وہ رد عمل پیدا ہونا چاہئے کہ خود خدا کہے کہ میرا بندہ میرا محبوب ہے یہ غلط قدم نہیں اٹھاتا۔گالیوں میں گالیاں ملا کر گند اور عفونت کی آواز کو ہم نے بلند نہیں کرنا بلکہ گالیوں کے گندے شعلوں کو اپنے آنسوؤں اور دعاؤں سے بجھانے کی کوشش کرنی ہے۔اس کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔یہی ہماری زندگی ہے۔یہی ہماری روح ہے اور یہی ہمارا شعار ہے۔اس کے بغیر تو کوئی زندگی نہیں ہے۔اگر ہم نے قرآن کریم کو چھوڑ دینا ہے۔اگر ہم نے اس سے کوئی پیار نہیں کرنا۔اگر ہمارے دل میں مہدی معہود کے لئے کوئی پیار نہیں تو کیا کرنا ہے زندہ رہ کر۔اگر خدا سے دور ہی رہنا ہے تو پھر زندگی کا کوئی مزہ نہیں ہے۔مزہ تو اس میں ہے کہ خدا کہے کہ تکلیفیں برداشت کرو۔ہم ان تکلیفوں کو برداشت کریں اور ہمیں پتہ یہ لگے کہ ان میں خدا نے ہمارے لئے سرور پیدا کر دیا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کسی نے سوال کیا کہ جن لوگوں کو آپ خدا کے پیارے اور محبوب کہتے ہیں اُن پر دُکھ کیوں آتے ہیں ان پر ابتلاء کیوں نازل ہوتے ہیں۔آپ چونکہ خود صاحب تجربہ تھے آپ نے مسکرا کر دیکھا اور فرمایا تم ان سے جا کر پوچھوان ابتلاؤں اور امتحانوں کو (جو دشمن کی نگاہ میں دُکھ اور تکلیف کا موجب ہیں ) دکھ اور تکلیف سمجھتے ہیں یا ان میں نہایت لذت اور سرور پاتے ہیں۔جب وہ اسے تکلیف ہی محسوس نہیں کرتے تو تم اسے تکلیف کیوں کہتے ہو۔پس یہ خدا کی چار صفات ہیں جو اصول کے طور پر سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ ان چار صفات کا مظہر بنے اور اپنی زندگیوں پر ان کا رنگ چڑھائے۔اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایک عملی نمونہ پیش کرنے کے لئے اپنے پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خلق کیا اُن کی اُنگلی پکڑی۔ان کا ساتھی اور دوست بنا۔ان سے پیار کرنے والا بنا۔اُن کو اپنا محبوب بنایا۔خود ان کا محبوب بھی بنا اور اس طرح گویا ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ اس عالمین کی یا ان افلاک کی جو غرض تخلیقی تھی وہ پوری ہو جائے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے اپنا عمدہ نمونہ پیش کیا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا مظہر بنانے کے لئے تمہارے سامنے جو نمونہ رکھا ہے۔اس میں کوئی خامی کوئی کمزوری اور کوئی نقص نہیں ہے۔جو صفات باری کا مظہر اتم اور مظہر اکمل ہے اور وہ ایک کامل اور