خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 50 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 50

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب سے برکت پائیں گی۔تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اُٹھایا جائے گا۔و کــــان امـــراً مقضياً ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۹۶،۹۵)۔اسی طرح یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اشتہار شائع فرمایا اور وہ بھی سبز اوراق کا اشتہار ہے اس میں حضور تحریر فرماتے ہیں۔”خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا کہ ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا۔جس کا نام محمود بھی ہے۔وہ اپنے کاموں میں اولوالعزم ہوگا۔یخلق الله مايشاء“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۱۵۲ح) اب ہم اس پیشگوئی کا بغور مطالعہ کرتے ہیں۔تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ پیشگوئی میں پسر موعود کی جو بنیادی صفت اور خاصیت بتائی گئی ہے وہ یہ ہے۔” نور آتا ہے نور باقی تمام خواص اس مرکزی نقطہ کے گردگھومتے ہیں۔گزشتہ باون برس تک ہم نے انوار الہیہ کو اس پاک نفس پر بارش کی طرح برستے ہوئے دیکھا اور خود ہم نے مشاہدہ کیا کہ وہ انوار بھی اخبار غیبیہ کے رنگ میں کبھی علوم و معارف کی صورت میں اور کبھی اخلاق فاضلہ کے پیرایہ میں اس پر اپنا پر تو ڈالتے رہے تھے۔وہ نظر احدیت کا منظور تھا۔جس پر فضل ربانی کا عظیم الشان سایہ تھا اور دیکھنے والوں کو صریح دکھائی دیتا تھا کہ قادر مطلق کا نور اس کی صحبت میں ، اس کی توجہ میں ، اس کی ہمت میں ، اس کی دعا میں ، اس کی نظر میں ، اس کے اخلاق میں ، اس کی خوشنودی میں ، اس کے غضب میں ، اس کی رغبت میں ، اس کی نفرت میں ، اس کی حرکت میں ، اس کے سکون میں ، اس کے نطق میں، اس کی خاموشی میں ، اس کے ظاہر میں اور اس کے باطن میں ایسے بھرا ہوا تھا۔جیسے ایک مصفی شیشہ ایک نہایت عمدہ اور اعلیٰ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ہم میں سے بہتوں نے اس کے فیض صحبت سے اور اس سے دلی تعلق پیدا کر کے وہ نورانی برکات حاصل کیں۔جو مجاہدات شاقہ سے بھی حاصل نہیں ہوسکتیں اور اس سے ارادت اور عقیدت کا تعلق پیدا کرنے سے ہم میں سے بہتوں کی ایمانی حالت نے ایک دوسرا ہی رنگ پکڑا جس سے ان میں نیک اخلاق ظاہر کرنے کی طاقت پیدا ہوگئی اور نفس امارہ پر زوال آ گیا اور جن خوش بختوں کو اس کی طویل صحبت میسر آئی وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ حضرت مصلح موعود کا پاک وجود اپنی ایمانی قوتوں میں اخلاقی حالتوں میں انقطاع عن الدنیا اور توجہ الی اللہ میں،