خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 595 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 595

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۹۵ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب سے اس سارے جہان کا نور ہیں۔آپ خالق اور مخلوق کے درمیان ایک ذریعہ بن گئے ہیں۔اسوۂ نبوی کا تیسرا بنیادی نکتہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات اور اُن کے مظہر اتم کی صفات کے جلوؤں میں ایک پہلو حسن کا ہے اور دوسرا احسان کا ہے۔اس لئے تمہارے اندر بھی اپنے اپنے دائرہ استعداد کے لحاظ سے حسن و احسان کے جلوے ظاہر ہونے چاہئیں اور اس غرض سے جماعت احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے۔قرآن کریم نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور فرمانبرداری کا حکم دیا ہے اور ہم سے اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (ال عمران :۳۲) کی رُو سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے جو اسوہ حسنہ رکھا ہے اپنے دائرہ استعداد میں اس کی پیروی کرتے ہوئے اپنے اندر صفات باری کے مظہر بنیں گے اور دُنیا کو حسن و احسان کے جلوے دکھائیں گے تو ہم اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کر لیں گے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔آپ کے نقش قدم پر چلنا (انسان کو خدا کا محبوب بنادیتا ہے )۔جب ایک انسان بچے دل سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے اور آپ کی تمام عظمت اور بزرگی کو مان کو پورے صدق وصفا اور محبت اور اطاعت سے آپ کی پیروی کرتا ہے یہاں تک کہ کامل اطاعت کی وجہ فنا کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔تب اس تعلق شدید کی وجہ سے جو آپ کے ساتھ ہو جاتا ہے۔وہ الہی نور جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتا ہے۔اس سے یہ شخص بھی حصہ لیتا ہے اور اس کے ہر ایک عضو میں سے محبت الہی کا نور چمک اُٹھتا ہے۔۔تب اندرونی ظلمت بکلی دور ہو جاتی ہے۔علمی رنگ سے بھی اس میں نور پیدا ہو جاتا ہے اور عملی رنگ سے بھی نور پیدا ہو جاتا ہے۔“ (روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۸۱) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”جماعت احمدیہ میں داخل ہونے والوں کا پہلا فرض یہی ہے کہ یہ چاروں صفتیں اپنے اندر بھی قائم کرے کیونکہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا یہی تقاضا ہے کیونکہ خدا کی ربوبیت یعنی