خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 578 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 578

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۷۸ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب جو آنحضرت کو جسمانی اور علمی اور اخلاقی اور روحانی قوتیں عطا ہوئی تھیں وہ آپ کی ذات میں اپنے کمال کو پہنچی ہوئی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ توفیق دی تھی کہ آپ اپنی خداداد قوتوں کی نشو و نما کو ان کے کمال تک پہنچا دیں۔چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی معنی میں اول المسلمین ہونا بنی نوع انسان کے لئے اسوۂ حسنہ کے مترادف ہے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عبادات کیسے کریں۔ہمیں اس کی طاقت نہیں ہے میں کہتا ہوں تمہیں کسی نے یہ کب کہا ہے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسی اپنی زندگی گزارو۔وہ طاقتیں تم میں ہیں ہی نہیں۔اُن طاقتوں کی تم نشو و نما تمام کر ہی نہیں سکتے لیکن اس میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر چہ یہ تو صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل درجہ کی طاقتیں عطا فرمائی تھیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو قو تیں اور طاقتیں اور استعداد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی تھیں آپ نے اپنی پوری توجہ اور انہماک اور ہر قسم کی قربانی کر کے اور ایثار دکھا کر اُن طاقتوں اور استعدادوں کو ان کے کمال تک پہنچا دیا تھا۔اس لئے ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ وہ اس اسوۂ نبوی کے مطابق اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی اپنی طاقتوں اور استعدادوں کو ان کے کمال تک پہنچائے۔گواؤل المسلمین کے اس معنی میں آپ ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔أنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِینَ کے لحاظ سے اسوہ نہیں کیونکہ اس میں تو سب سے آگے نکلنا مراد ہے اور سب سے آگے ایک ہی نکلا کرتا ہے اور جس نے آگے نکلنا تھا وہ نکل گیا لیکن اس معنی میں آپ ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو بھی اور قو تیں دیں ان قوتوں کو آپ نے اپنے دائرہ استعداد میں ( دائرہ استعداد سے مراد شریعت کا کمال ہے۔) اپنے کمال کو پہنچا دیا۔اس لئے ہر شخص کو کہا گیا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں سو کی بجائے ۹۰ فیصد طاقت ملی ہو تو وہ اپنے اس دائرہ استعداد میں اسے کمال تک پہنچائے۔اگر کسی کو استی یا ستر یا پچاس یا پچیس یا ہیں یا دس فیصد طاقت ملی ہو تو وہ اپنے اسی دائر ہ استعداد میں اپنی طاقتوں اور قوتوں کی نشو و نما کو کمال تک پہنچائے۔پس قرآن کریم نے اصولی طور پر جو پہلی چیز بتائی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی قوتوں اور طاقتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق کمال تک پہنچایا