خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 577
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۷۷ ۱۲۸ دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب سکتے۔کیونکہ وہ تو ایک ہی تھا جو آگے نکل سکتا ہے۔سب سے آگے دو نہیں نکل سکتے۔یا تین نہیں نکل سکتے بلکہ ایک ہی ہوتا ہے۔جو سب سے آگے نکلتا ہے۔پس سورۃ زمر میں جو مضمون بیان ہوا ہے۔اس میں آپ کی ایک بلندشان بیان کی گئی۔اور وہ یہ کہ قرب الہی کے حصول میں آپ ساری مخلوقات میں سے آگے نکل گئے۔حتی کہ انبیاء کو بھی ذاتی جوہر کے لحاظ سے بھی اور ظاہری خدمات کے لحاظ سے بھی اپنے پیچھے چھوڑ دیا۔دوسری جگہ اول المسلمین ایک دوسرے معنی میں استعمال فرمایا ہے۔اس معنی میں آپ ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔اللہ تعالیٰ سورہ انعام میں فرماتا ہے کہ اے رسول! تو لوگوں سے کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی طرف میری رہنمائی کی یعنی اُس نے مجھے وہ راہ بتائی ہے جس پر چل کر خدا داد قوتوں اور استعدادوں کو کامل نشو و نما ملتی ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمونہ بیان کر کے بتایا کہ اگر قوتوں کی صحیح نشو ونما کرنا مقصود ہو تو شرک کا کوئی شائبہ انسانی زندگی، انسانی کوشش اور انسانی محنت میں نہیں ہونا چاہئے۔ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص کچھ تو خدا کی طرف ٹھک جائے اور کچھ غیر اللہ کی طرف جھک جائے تو نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلے گا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول! تو کہہ دے! إنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔میری نماز اور میری دعا ئیں جن سے میں اللہ تعالیٰ سے قوت حاصل کرتا اور طاقت پاتا ہوں اور میری عبادتیں اور میری زندگی اور میری موت اللہ تعالیٰ کے جلال کو ظاہر کرنے والی اور اس کے بندوں کو آرام پہنچانے کے لئے ہے۔لِلهِ رَبِّ العَلَمِينَ اس میں اللہ کے لفظ میں خدا کے جلال کو ظاہر کرنے کی طرف اشارہ ہے اور رب العالمین میں بندوں کی خدمت کی طرف اشارہ ہے۔یہاں یہی نہیں فرمایا لَا شَرِيكَ له بلکہ یہ بھی فرمایا وَبِذلِكَ أُمِرْتُ مجھے اس چیز کا حکم دیا گیا ہے کہ جو صراط مستقیم بنائی گئی ہے۔اُس پر چلوں۔ملت ابراھیم کو اختیار کروں اور میری نماز اور میری عبادت، میری زندگی اور میری موت خدا تعالیٰ کے جلال اور بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے وقف ہوا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو قائم کرنا میری زندگی کا مقصد ہو اور پھر فرمایا وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ یعنی ان قوتوں کی نشو ونما کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔گویا اِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف۔