خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 544 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 544

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۴۴ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطا۔سال سخت ہنگاموں کا سال تھا اور سخت فساد کا سال تھا اور سخت فتنوں کا سال تھا جس میں پاکستان کو ایک بڑا شدید بنیادی نقصان اٹھانا پڑا، اس میں بھی جماعت کو اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق عطا فرمائی کہ مشرقی پاکستان کی جماعت کا چندہ وصول نہ ہونے کے باوجود مجموعی بجٹ سے (یعنی جس مشرقی پاکستان کا چندہ شامل تھا) سینتیس ہزار روپے زائد رقم وصول ہوئی۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے اس لئے دوستوں کو چاہئے کہ اللہ کا شکر کیا کریں اور اس کی حمد کیا کریں اور بشاشت سے اپنی زندگی گزارا کریں۔مجلس شوری میں آپ کے نمائندوں نے میرے پاس یہ سفارش کی تھی کہ مغربی پاکستان کا سال رواں کا بجٹ پچھلے سال کے مجموعی بجٹ سے بھی تین لاکھ روپے زائد رکھا جائے چنانچہ یہ رقم بجٹ میں رکھی گئی ہے۔کچھ بیچ میں دوسرے چندے آتے ہیں۔جماعتوں نے مختلف شکلوں میں ادائیگی کے بارہ میں اپنے لئے سہولتیں پیدا کی ہوتی ہیں۔مثلاً راولپنڈی کی جماعت ہے وہ حالات کی مناسبت سے ایک وقت میں یہ کہہ دیتی ہے کہ ہم لا زمی چندوں کو وقتی طور پر چھوڑ بھی دیں تو کوئی بات نہیں۔تحریک جدید کا چندہ پورا کر دیتے ہیں ، یا وقف جدید کا چندہ پورا کر دیتے ہیں وغیرہ۔کچھ ویسے بھی توجہ کم تھی اس لئے میں نے ایک پچھلے خطبہ جمعہ میں جماعت کو اس طرف توجہ دلائی۔دوسرے بعض لوگوں کی طرف سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ چونکہ مرکز نے کہا ہے نصرت جہاں ریزروفنڈ میں اپنا اسی فیصد وعدہ پورا کرو۔اس لئے لازمی چندوں کی ادائیگی میں کمی واقع ہو گئی ہے۔میں نے کہا کہ تمہارا یہ اعتراض بھی باقی نہیں رہنے دیں گے۔چنانچہ میں نے اپنے خطبہ میں یہ اعلان کیا کہ تمہارے نصرت جہاں ریزروفنڈ کے جو وعدے ہیں وہ بعد میں ادا کر دینا مگر ۳۱ دسمبر تک لازمی چندہ جات کا ۸/۱۲ یعنی ۲/۳ حصہ ادا کر دو۔اب دیکھتے ہیں کہ جماعت اس پر کس حد تک عمل کرتی ہے۔ویسے یہاں حساب میں پڑنے کی ضرورت بھی نہیں اس طرح خواہ مخواہ وقت ضائع ہو گا جن کے سپرد یہ کام ہے۔ان کو میں نے سمجھایا ہے کہ وہ شکل نہیں بنتی جو تمہارے دماغ میں آئی ہے۔بہر حال اس خیال سے کہ کسی کمزور ایمان احمدی کے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو میں نے مختصر بتا دیا ہے۔کیونکہ لازمی چندہ جات کے علاوہ جو دوسرے چندے ہیں ان کی ادائیگی بھی معمول بن گئی ہے اس معمول میں یارٹ میں کوئی چیز آ جاتی ہے تو ساتھ ہی بعض