خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 542 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 542

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۴۲ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار ہیں کہ ہم واپس جا کر یہ باتیں جماعتوں کو سنائیں گے۔اگر راستہ میں وہ پلکہ کھل جاتا ہے تو اس کا تو مجھے پتہ نہیں۔بہر حال وہ مجلس شوریٰ میں تو یہی کہتے ہیں کہ انہوں نے تمام باتیں پلے باندھ لی ہیں۔جو چیز مجلس شوری میں اس طرح نمایاں نہیں ہوتی اور نہ کوئی خاص ضرورت سمجھی جاتی ہے۔کیونکہ بہت زیادہ بنیادی اہمیت کے معاملات مجلس شوریٰ میں زیر بحث ہوتے ہیں۔وہ یہ ہے کہ کارکنان کو علاوہ گزاروں کے ( جو بہت کم ملتے ہیں ) بعض امداد میں دی جاتی ہیں۔تحریک جدید، وقف جدید ، انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ اور صدرانجمن احمدیہ کے کارکنوں کو یا ایسے خاندانوں کو جن کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ اپنے گزارے کم سے کم معیار پر بھی نہیں کر سکتے۔چنانچہ صدر انجمن احمدیہ کے کارکنان کو سالانہ گندم کا ایک چوتھائی مفت دیا جاتا ہے۔اگر روز انہ نصف سیر گندم فی کس سمجھی جائے تو سال کے لئے ساڑھے چار من گندم بنتی ہے۔اگر وہ دو میاں بیوی ہیں یعنی ایک شخص کی نئی نئی شادی ہوئی ہے اور وہ انجمن کا کا رکن بنا ہے تو ان کو نومن کی ضرورت ہے۔تو صدرانجمن احمد یہ اس کا چوتھائی حصہ یعنی دو من دس سیر مفت دیتی ہے اور اگر کوئی پرانا کا رکن ہے اور اس کے ماشاء اللہ سات آٹھ بچے کھانے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس پر بڑا ضل فرمایا ہے اور دو وہ خود میاں بیوی ہیں یہ کل دس افراد بن جاتے ہیں۔اس خاندان کو پینتالیس من گندم کی ضرورت ہوگی تو ان کو مثلاً صدرانجمن احمدیہ ( اور اس طرح دوسرے ادارے بھی ) چوتھا حصہ یعنی گیارہ من دس سیر گندم مفت دیتے ہیں اور یہ اپنی ذات میں بڑی مدد ہے۔اب اگر ایک شخص کو نومن کی ضرورت تھی تو اس کو دو من دس سیر گندم مفت دی گئی دوسرے خاندان کو پینتالیس من کی ضرورت تھی ہم نے گیارہ من دس سیر دی۔یعنی پہلے آدمی کی اصل ضرورت سے بھی زیادہ دے دی۔غرض ہم اپنے کارکنوں کو ان کی گندم کی اصل ضرورت کا ایک چوتھائی مفت دے دیتے ہیں۔چنانچہ اس سال صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے ۲۲۳۰ من گندم کے طور پر مدد دی گئی جس پر جماعت نے ۴۲۷۵۲ روپے خرچ کئے۔اس طرح موسم سرما میں کچھ کپڑوں کی زائد ضرورت ہوئی ہے۔کچھ ایسے خرچ بھی کرنے پڑتے ہیں۔جن کی گرمیوں میں ضرورت پیش نہیں آتی تو ان کے لئے پچھلے سال کم رقم تھی۔اس سال ہم نے یہ قانون بنایا ہے کہ کارکن اور اس کے زیر کفالت افراد مثلاً اگر دس ہوں تو دس کے لئے ۶ ۱ روپے فی کس کے حساب