خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 539 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 539

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۳۹ ۱۲۷ دسمبر ۱۹۷۲ء۔دوسرے روز کا خطار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مصلح موعود کی حیثیت سے مبعوث ہوئے تھے۔آر زمانہ کی ضرورت اور زمانہ کے اُلجھے ہوئے مسائل کے متعلق لکھتے تھے۔جو کمزوریاں اور بدعات مسلمانوں میں پیدا ہو گئی تھیں آپ ان کی اصلاح کرتے تھے اور جو اعتراضات اندھیروں میں بسنے والے لوگوں نے اسلام پر کئے تھے آپ ان کے جواب دیتے تھے۔مگر آپ جو کچھ لکھتے اور کہتے تھے ان کی بنیاد قرآن کریم کی کسی نہ کسی آیت یا اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی نہ کسی ارشاد پر رکھتے تھے۔اس لئے مضمون کے لحاظ سے آپ نے بعض دفعہ ایک آیت سورۃ بقرہ سے لی ، ایک سورۃ کہف سے لے لی یا ایک آخری پارہ کی لے لی اور اس طرح اپنے استدلال کو مؤثر بنانے کے لئے مختلف آیات کو اکٹھا کر دیا اور ان کی تفسیر بیان کی اور اس سے ثابت یہ کیا کہ اعتراض غلط ہے اور اس سے نتیجہ یہ نکالا کہ غیر مسلم اسلام کی طرف جو بات منسوب کر رہے ہیں وہ غلط ہے اس سے نتیجہ یہ اخذ کیا کہ آج کل مسلمانوں میں جو بعض رسوم پائی جاتی ہیں۔وہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔وغیرہ۔گویا آپ نے ثابت کیا کہ آپ واقعی ایک عظیم مصلح ہیں اور وہی مہدی معہود ہیں جس کی خدمت پر حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور آپ نے فرمایا تھا کہ جب وہ آئے گا تو میری طرف سے اسے سلام کہنا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیان فرمودہ تفسیر کی تالیف کا یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔اس سے پہلے سورۃ فاتحہ کی تفسیر بڑے اچھے کاغذ پر اور بڑی اچھی کتابت کے ساتھ شائع ہو چکی ہے۔میری کوشش ہمیشہ یہی ہوتی ہے کہ ایسی کتابیں سستی ترین قیمت پر دوستوں کے ہاتھ میں پہنچ جائیں۔تاہم کچھ نہ کچھ نفع تو ضرور رکھنا پڑتا ہے۔کیونکہ متعلقہ عملہ کو تنخواہیں دینی پڑتی ہیں۔اس کے بعد سورۃ بقرہ کی تفسیر شائع ہوئی اور اب اس سال آل عمران اور نساء کی شائع ہوئی ہے۔میرا اندازہ ہے کہ یہ تفسیر دس جلدوں میں مکمل ہوگی۔تیسری جلد تک چھپ چکی ہے۔۔لجنہ اماء اللہ نے اپنی ” تاریخ لجنہ“ کی جلد سوم جو ۱۹۵۹ء سے ۱۹۷۲ ء تک کے حالات وکوائف پر مشتمل ہے شائع کی ہے۔اسی طرح ایک ہمارے عزیز ہیں لطیف احمد قریشی صاحب انہوں نے مکرم محترم روشن دین تنویر مرحوم کا منظوم کلام اکٹھا کر کے شائع کیا ہے۔ہمارے بزرگ محترم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی دو کتب بھی اس وقت دکانوں پر موجود ہیں۔ایک تحدیث نعمت اور