خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 531 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 531

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۳۱ ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔افتتاحی خطاب طاقتوں والا رب ہے۔اس نے یہ کہا ہے کہ اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرے گا۔لیکن اس نے یہ نہیں کہا کہ اگر ہم دنیا کے بندے بن جائیں تب بھی وہ ہم سے پیار کرتا رہے گا۔اگر ان بشارتوں سے ہم نے حصہ لینا ہے تو ہمارے لئے یہ ضروری ہوگا کہ ہم اس کی راہ میں فدا ہو جائیں۔اور جیسا وہ چاہتا ہے کہ ہم بنیں، ویسا ہم بن کر اُسے دیکھا دیں۔آخر میں اس دعا کے ساتھ میں اس جلسہ کا افتتاح کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کا حافظ و ناصر ہو۔یہاں بھی اور جب باہر سے آنے والے احباب واپس جائیں تو وہاں بھی۔اور آپ کی غیر حاضری میں وہ آپ کا بہترین قائمقام بن کر آپ کی عزتوں اور آپ کے اموال کی حفاظت کرنے والا بنے۔اللہ تعالیٰ کے فرشتے آسمانوں سے نازل ہو کر ہم بے کسوں کی مدد کے لئے آئیں اور ہمیں دنیا میں کامیاب کریں۔اللہ تعالیٰ ہماری فراست میں برکت ڈالے ہمارے ذہنوں میں چلا پیدا کرے، ہمارے علم میں زیادتی بخشے۔اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق ہمیں ایسا بنادے کہ جس چیز کو ہم ہاتھ لگائیں خدا کے فضل اور اس کی رحمت اور اس کی بشارت کے مطابق اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے۔اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور رحمتوں کی فضا میں سانس لیتے ہوئے ان چند دنوں کو ہم گزاریں، اس کو بنیاد بنا ئیں۔اللہ تعالیٰ رحمتوں اور اس کی برکتوں کی فضا کے قیام کی کہ اس کے بعد جہاں بھی ہم ہوں۔برکتوں اور رحمتوں کی فضا ہمارے لئے میسر آتی رہے اور اس کا نور ہمارے گھروں اور سینوں کو منور کرتا رہے اس کے فرشتے ہمیشہ ہمیں یہ بشارتیں دیتے رہیں کہ دشمن خواہ کتنا بڑا اور طاقتور کیوں نہ ہو تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ تمہارا رب قدیر تمہارے ساتھ ہے۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے فرشتوں کی فوجیں تمہاری مدد اور نصرت کے لئے آسمانوں سے اتری ہیں، ان فرشتوں کے پروں کے سایہ میں شاہراہ اسلام پر آگے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو کہ ترقیات کے دروازے کھل چکے ہیں انشاء اللہ میں کل کی تقریر میں آپ کو بتلاؤں گا کہ اللہ تعالیٰ نے کتنے فضل اس چھوٹی سی جماعت پر اس تھوڑے سے زمانہ میں کئے ہیں۔پس ترقیات کے دروازے کھل چکے ہیں اب ہمارا کام ہے کہ ہم انتہائی عاجزی اور انتہائی مجاہدہ کے ساتھ ان دروازوں میں داخل ہو کر اس شاہراہ پر تیز سے تیز ہوتے چلے جائیں جو ایک نہ ایک دن غلبہ اسلام کی منزل مقصود تک پہنچانے والی ہے۔