خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 529 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 529

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۲۹ ۲۶ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔افتتاحی خطاب اعلائے کلمہ اسلام پر رکھی گئی ہے۔اسلام کی ندا کو بلند کرنے کے لئے اور اسلام کو دُنیا میں غالب کرنے کے لئے اور توحید کا جھنڈا ملک ملک، گاؤں گاؤں، گلی گلی اور گھر گھر گاڑنے کے لئے اسے قائم کیا گیا ہے اور اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ بنی نوع انسان کے دل میں بحیثیت نوع انسانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو قائم کیا جائے اور تمام انسانوں کو خواہ وہ دنیا کے کسی خطہ میں ہی کیوں نہ بسنے والے ہوں، اُمتِ واحدہ بنا دیا جائے۔ایک خاندان بنا دیا جائے۔ایک ایسا جسم بنا دیا جائے کہ جس کی اگر ایک انگلی بھی دُکھے تو سارے جسم میں درد پیدا ہوتا ہے۔افریقہ کے بسنے والے جن کو دنیا نے دھتکار دیا تھا اور انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا تھا ، خدا تعالیٰ نے ہمارے ذریعہ سے یعنی جماعت احمدیہ کو آلہ کار بنا کر دنیا کے سفید فام کے ساتھ دنیا کے سرخ رنگ اور گندمی رنگ والوں کے ساتھ ان کو بھائی بھائی بنا دیا۔جو چیز دنیا میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ یعنی اسلام کی نشاۃ اولیٰ کے بعد آج تک انسان نے نہیں دیکھی تھی اور جسے ناممکن سمجھا جاتا تھا وہ آپ کے ذریعہ ممکن ہوگئی۔ایک حبشی ہمارے سامنے آتا ہے تو ہم اُسے بے اختیار بڑے پیار سے گلے لگا لیتے ہیں ہمارے ایک مخلص دوست جو ایسے سینیا (Abyssinia) کے رہنے والے ہیں ان دنوں یہاں آئے ہوئے ہیں وہ جس دوست کے ساتھ ملتے ہوں گے وہ انہیں اپنے گلے لگاتا ہوگا۔علاوہ ازیں کئی اور افریقن دوست یہاں آتے رہتے ہیں۔ہمارے پاس افریقن بچے بھی پڑھتے ہیں، انہیں کسی فرق کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ہم ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح رہتے ہیں جس طرح ایک خاندان کے مختلف افراد ہوتے ہیں۔پس جس طرح ایک خاندان کے افراد بھی مختلف رنگوں میں پیدا ہو جاتے ہیں لیکن ان کی آپس میں کوئی تفریق نہیں ہوتی۔اسی طرح جماعت احمدیہ کے ذریعہ ساری دنیا کے احمدی مسلمان آپس میں بھائی بھائی بن گئے ہیں۔پس اعلائے کلمہ اسلام پر جس اجتماع کی بنیاد رکھی گئی ہے اس اجتماع میں شامل ہونے والوں کا یہ اولین فرض ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر آن خصوصاً ان ایام جلسہ میں اپنے ربّ کریم کے حضور عاجزانہ جھکے رہیں۔اور ان کی روح پکھل کر خدا کے آستانہ پر بہہ نکلے اور اس سے وہ یہ دعائیں کرتے رہیں کہ اے ہمارے رب اور اے ہمارے محسن قادر و توانا ! جس غرض کے لئے اس جلسہ کی بنیاد رکھی گئی ہے اس غرض کو ہماری زندگیوں میں نمایاں طور پر پورا کر دے تا کہ تمام