خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 516
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۱۶ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب چارہ نہیں تھا۔وقت ہی نہیں تھا لیکن وہ ہلہ کر کے آئے اور ہمارے چوہدری محمد علی صاحب، ظہور باجوہ صاحب اور جو نیر صاحب جو میرے ساتھ قاصد بن کر گئے ہوئے تھے ان کو دھکا دیا تو یہ کوئی پندرہ فٹ اُدھر اور کوئی ادھر۔اور آگے بڑھ کر مجھے گھیر لیا جو دوست مصافحے کرنے کے لئے میرا ہاتھ پکڑے وہ چھوڑے ہی نہ۔اب یوں ہاتھ پکڑا ہوا ہے جو دوسرا آئے وہ اس کے ہاتھ کو پکڑے اور زور لگا کر چھڑوانے کی کوشش کرے اور پھر وہ بھی میرے ہاتھوں کو اسی طرح پکڑے اور پھر اسی طرح کرتا رہے۔بڑی مشکل سے ہم کا رتک پہنچے۔غرض یہ ۴۷ جگہ کا نام ہے۔جہاں ہماری جماعت ہے اور چوتھی جماعت تک کا ایک پرائمری سکول بھی ہے یہاں بھی ہم کوشش کر رہے ہیں کیونکہ یہ bush ہی ہے وہاں پر بخش محاورہ ہے ایسی جگہ کے لئے جہاں تہذیب و تعلیم نہیں گئی۔نہ وہاں سکول ہیں اور نہ کوئی میڈیکل سنٹر ہے۔کوئی چیز نہیں ہے اس واسطے بش ایریا میں جتنے زیادہ سکول اور ہیلتھ سنٹر بن جائیں اتنے زیادہ اچھے ہیں۔جورو میں بھی ( یہ سیرالیون میں ہے۔وہاں کے پیرا ماؤنٹ چیف نے ہیلتھ سنٹر اور ڈاکٹر کے لئے مکان اور زمین دینے کا وعدہ کیا ہے اس نے کہا ہے کہ یہ جو captial investment ہوتی ہے یعنی سرمایہ جو ہے یہ میں خرچ کرتا ہوں ڈاکٹر آپ بھیجیں اور کمائیں آپ۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جو کمائیں گے اس میں سے ان کا حصہ نہیں ہو گا مفت دے دیتے ہیں وہ کہتے ہیں مکان بنا کر دیں گے۔زمین دیں گے۔وہاں سے خط آتے ہیں بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ایک پیرا ماؤنٹ چیف نے لکھا ( شائد وہ کماسی کا تھا) کہ میرے چیف ڈم یعنی میرے علاقے میں اگر کوئی شخص بیمار ہو جائے تو اُسے طبعی امداد کے لئے ۲۰ ، ۲۰ میل ، ۲۵ ،۲۵ میل دور جانا پڑتا ہے۔اس لئے مکان اور زمین کے سلسلہ میں خرچ ہم برداشت کریں گے۔آپ ڈاکٹر کا انتظام کریں۔غرض اس قسم کے بھی وہاں علاقے ہیں۔خدمت کے جذبہ کے ساتھ ہم انشاء اللہ وہاں جائیں گے اور اپنی ہتھیلیاں پیارے دلوں کے ساتھ بھر کر واپس لے آئیں گے آپ پوچھیں گے کہ انہیں آپ رکھیں گے کہاں ؟ تو اس قسم کا سوال پہلے بھی مجھ سے ہو چکا ہے ۱۹۶۷ء میں ڈنمارک میں پریس کانفرس میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے صحافیوں نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ ہمارے ملکوں میں اسلام کیسے پھیلائیں گے؟ مطلب