خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 483
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۸۳ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب صفر ہوتا ہے مگر اسلام نے ایک حسین نعرہ لگایا ہے۔اللہ تعالی نے دنیا کی ہر نسل کو مخاطب ہو کر کہا کہ رحمة للعالمين تمہاری طرف مبعوث کیا جا رہا ہے اور پھر اس رحمت کو ہر فرد تک پہنچانے کا انتظام کیا۔یہ انتظام کیا تھا؟ اس کے متعلق ہمیں سوچنا چاہیے۔ہر ذہن کو اس پر غور کرنا چاہیے۔اس وقت میں جو باتیں بیان کروں گا آپ ان کو سمجھنے کی کوشش کریں۔غرض ایسے ذرائع ہونے چاہئیں کہ ہر قوم کے دل اور ہر قوم کی فطرت اور ہر زمانے کے لوگ اس کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔ہر نسل اور ہر قوم کی فطرت صحیحہ انسانیہ ایک ہی ہے۔یہ فطرت صحیحہ انسانیہ کہے کہ یہ جو بات کہی جارہی ہے یہ واقع میں ایسی ہے کہ یہ ہمارے دلوں کو موہ لیتی ہے۔ایسے مضبوط روحانی اور اخلاقی بندھن ہیں کہ جن سے باہر نکلنا کوئی پسند ہی نہیں کرتا اور ان بندھنوں میں جکڑ کر سارے انسانوں کو اکٹھا کیا جائے گا۔اس زمانے میں ہم داخل ہو چکے ہیں اور ذمہ واری ہم پر ہے ( اس کے متعلق تو میں بعد میں بیان کروں گا ) لیکن کیا ذمہ داری ہے اور کیا وسائل اختیار کئے گئے ہیں پہلے میں ان کو لیتا ہوں۔پہلی چیز کہ کوئی شخص (سوائے کسی پاگل کے ) یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے نتیجہ میں انسانوں کے دل نہیں جیتے جا سکتے اور تمام اقوام عالم کو ملت واحدہ نہیں بنایا جا سکتا اور یہ وسیلہ اور یہ ذریعہ جو اختیار کیا جا رہا ہے یہ درست نہیں ہے کوئی عقلمند یہ نہیں کہے گا۔سارے لوگ یہ کہیں گے کہ اگر ذریعہ اختیار کیا جائے تو یقیناً ہر انسان کا دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتا جا سکتا ہے پس پہلا وسیلہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کریم کے ذریعہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے وہ شرف انسانیت کا ہے ہر انسان کی عزت اور اس کے احترام کو قائم کرنے کا نعرہ لگا دیا۔جہاں بتوں کے خلاف نعرہ لگایا تھا وہاں بت پوجنے والوں کے خلاف نعرہ لگا دیا کہ ایک عربی اور عجمی میں کوئی فرق نہیں ہے ایک کالے اور گورے میں کوئی فرق نہیں ہے ہر انسان کو بحیثیت انسان محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ وہ شرف اور عزت بخشی گئی جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا تھا اور جس کے متعلق خدا چاہتا تھا کہ ان کو ملے۔اب دُنیا کا کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ جی! اگر تمام بنی نوع انسان کو عزت و شرف کے ایک مقام پر لا کر کھڑا کر دیا جائے تو اس سے اقوام عالم کے دل نہیں جیتے جائیں گے۔یہ کوئی نہیں