خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 467
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۶۷ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار نے دعوی کبھی کوئی کیا نہیں، مجھے تو فکر نہیں۔تو وہی نا اہل اور واقعی میں تو نا اہل تھا۔اللہ تعالیٰ اگر اہلیت نہ دے اور اتنی نہ دے جتنی اسے چاہئے تھی تو آدمی کیا کر سکتا ہے۔وہ جماعت جن کے اوپر اتنے اور بار ہیں۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے چندے ابھی ختم ہوئے تھے۔دو گھنٹے میں ان کے پاس ٹھہرا اور ان کو کہا پچاس ہزار کے مقابلے میں تمیں ہزار سے زائد وعدے ان دو گھنٹوں میں آچکے تھے۔اس وقت وہ اڑتالیس ہزار سے اوپر نکل گئے ہیں اور اٹھارہ ہزار سے اوپر نقد جمع ہو چکا ہے۔تین سال میں فضل عمر فاؤنڈیشن کا اکیس ہزار ہوا تھا۔اس وقت جماعت میں اتنی طاقت۔پھر اللہ تعالیٰ نے مال میں برکت ڈالی۔چار پانچ سال بڑا عرصہ ہوتا ہے۔مالوں میں اس نے بے شمار برکت ڈالی۔اس لحاظ سے بھی ان کو کہیں کا کہیں لے گیا۔قربانی دینے والے دلوں کے احساس میں بھی برکت ڈالی اور انہوں نے کہا اکیس ہزار پر ہم نے نہیں ٹھہرنا۔چنانچہ اب اڑتالیس ہزار تک پہنچ چکے ہیں اور ابھی کام جاری ہے۔میں نے انہیں کہا تھا چلنے سے پہلے چند دنوں میں دس ہزار نقد دو کیونکہ میں افریقہ والوں کو اس عرب شاعر کی طرح یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے تمہارے ہاں میڈیکل سنٹر اور سکول کھولنے ہیں۔میں ہوں بڑا امیر مگر میری ساری دولت وعدوں پر مشتمل ہے، نقد کوئی نہیں۔ان وعدوں کے ساتھ میں میڈیکل سنٹر تو نہیں کھول سکتا نہ سکول کھول سکتا ہوں۔مجھے نقد چاہئے۔پس چند دنوں میں مجھے دس ہزار نقد دو تا کہ جب خدا میرا یہ کام شروع کرنا چاہے تو میں ادھر اُدھر نہ دیکھوں۔میرے پاس رقم ہونی چاہئے۔چنانچہ چند دنوں کے بعد جب میں نے لندن کو چھوڑا تو وہاں دس کی بجائے ساڑھے گیارہ ہزار نقد جمع ہو گئے اور اب نقد اٹھارہ ہزار تک پہنچ گئے ہیں۔اتنے پیارے ہیں آپ، آپ کی کوئی قیمت نہیں۔دنیا کے سارے جواہر ایک مخلص احمدی کے دل کو نہیں خرید سکتے۔یہ میں پاؤنڈوں میں بات کر رہا ہوں۔اکیس ہزار پاؤنڈ ، پچاس ہزار پاؤنڈ۔اٹھارہ ہزار پاؤنڈ جمع ہو چکا ہے۔مجھے ایک دوست نے لکھا کہ میں نے اپنی شادی کے لئے کچھ رقم جمع کی ہوئی تھی ادھر آپ کا خط آ گیا۔(اب میں نے کچھ خط لکھے تھے کہ جو وعدے کئے ہیں، وہ پورے کرو۔مجھے پیسوں کی خدا کے لئے ضرورت ہے۔) لکھتا ہے۔آپ کا خط آیا تو میں نے وہ رقم جو شادی کے لئے جمع کی تھی ، نصرت جہاں ریز روفنڈ میں دے دی اور اپنی شادی ملتوی کر دی۔