خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 465 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 465

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء)۔۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار سواحیلی زبان میں تین ہزار کی تعداد میں شائع کی جارہی ہے۔حیات احمد عربی میں تین ہزار۔الحمد لله ما مسلمانیم “ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فارسی زبان میں اقتباسات ہیں ایک ہزار کی تعداد میں شائع کیا جا رہا ہے۔( غالباً ایک ہزار غلطی سے لکھا گیا ہے۔دس ہزار شائع ہونا چاہیے۔تحریک نوٹ کر لے )۔قبر مسیح انگریزی میں تین ہزار۔کفارہ انگریزی میں تین ہزار۔عیسائیت پر ریویو انگریزی میں تین ہزار۔جو مختلف کتب کے تراجم تیار ہورہے ہیں۔ان میں اسلامی اصول کی فلاسفی“ کا ڈینش زبان میں ترجمہ ، دعوۃ الامیر کا عربی اور فارسی زبان میں۔”ہم مسلمان ہیں" کا ترجمہ انگریز زبان میں امن کا پیغام اور حرف انتباہ کا سپینش زبان میں اور اسلامی نماز کا سپینش میں۔وقف جدید وقف جدید کا سال یکم جنوری سے شروع ہوتا ہے۔اللہ کی حمد کے ترانے گاتے ہوئے اور اسی پر کامل تو کل اور بھروسہ رکھتے ہوئے میں اگلے سال کے افتتاح کا اعلان کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور جماعت کو بھی ان ذمہ داریوں کو سمجھنے اور نباہنے کی توفیق عطا کرے جو مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ پیاری تحریک ہم پر ڈالتی ہے۔معلمین وقف جدید کی تعداد ایک سو تین ہے۔جن میں سے سولہ معلمین مشرقی پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔شعبہ ارشاد وقف جدید کے تحت چونتیس ہزار تین سو چھتر کتب اور رسائل وغیرہ مختلف علاقوں میں تقسیم کئے گئے ہیں۔یعنی پاکستان کی مختلف زبانوں میں۔علاقہ نگر پارکر میں ہندو جن لوگوں کو اچھوت کہا کرتے تھے اور جب وہ مسلمان ہو جا ئیں تو مسلمان ان کو بھائی کہتے ہیں۔خدا کا بڑا فضل ہے۔اس علاقے میں بڑی اچھی تبلیغ ہورہی ہے اور بڑی کثرت سے لوگ احمدی ہو رہے ہیں۔میرا خیال ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں اچھوت ہندو، مسلمان بھائی بن چکا ہے۔آٹھ معلم وہاں کام کر رہے ہیں۔وہاں جو ہمارا نیا مسلمان بھائی بنتا ہے، وہ بڑے شوق سے اپنے بچوں کو قرآن کریم پڑھاتا ہے اور میں سمجھتا ہوں اس میں بڑی برکت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پڑھ ہیں اور بڑے ہو گئے ہیں لیکن ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے