خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 462
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۶۲ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطاب پر یشانیوں کو اٹھاؤ اللہ کے سامنے کیونکہ دوسروں کے سامنے تو ہم مسکراتے رہتے ہیں اور ہماری مسکراہٹیں کوئی نہیں چھین سکتا۔ایک اور فضل یہ ہوا کہ اس سال کے دوران کا نو نائیجیریا) میں ایک نیا سکول کھولا گیا۔یہ سکول آگے بڑھو کی سکیم سے پہلے کا ہے۔اس وقت تک تین سو سے زائد مساجد تعمیر ہو چکی ہیں۔سال رواں میں جونئی مساجد تعمیر ہوئیں وہ میں بتا دیتا ہوں۔جزائر غرب الہند میں، ٹرینیڈاڈ میں ، تنزانیہ میں ، موروگورو میں نئی مسجد میں تعمیر ہوئی ہیں۔ایسنس (امریکہ ) میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔اجے بو اوڈے نائیجیریا) کی جس مسجد کا میں نے افتتاح کیا تھا ، وہ بہت بڑی جامع مسجد ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے دل ، ایسے سینے اور ایسی روحیں عطا کر رہا ہے کہ چھ ہزار میل دور بیٹھی ہوئی ایک افریکن احمدی عورت نے اکیلے پچھپیں تمہیں ہزار پاؤنڈ خرچ کر کئے اجے بو اوڈے میں احمد یہ جامع مسجد تیار کر دی جس کا مطلب یہ ہے کہ پانچ سات لاکھ روپیہ خرچ کیا۔افریقہ پیکس (Africa speaks) میں اس تعمیر کی تصویر بھی آئی ہے۔یہ بھی اللہ کے فضل ہیں۔تحریک جدید کی طرف سے جو کتب شائع ہوئیں یا زیر تیاری یا زیر طباعت ہیں۔ان میں سے ایک قرآن کریم کا فرانسیسی ترجمہ ہے۔اس کی ہمیں بڑی ضرورت ہے کیونکہ افریقہ کے بہت سارے ممالک فرانسیسی اقتدار کے ماتحت رہے تھے اور وہاں فرانسیسی بولی جاتی ہے وہ مکمل ہو چکا ہے اور دیباچے کا ترجمہ کروایا جا رہا ہے۔اب شاید ہمیں چند مہینے انتظار کرنا پڑے تا کہ دو سال بچ جائیں کیونکہ ہمارا نیا پر یس لگ رہا ہے اور یہ پریس اللہ کے فضل سے بڑا اچھا ہو گا۔باہر جو تین سال میں کام ہوتا ہے وہ انشاء اللہ یہاں تین مہینے میں ہو جایا کرے گا۔انگریزی کا ترجمہ لاہور میں تین سال میں تیار ہوا ہے۔حالانکہ انہوں نے بڑی محبت اور پیار سے قرآن کریم کا کام کیا ہے۔ہم ان کے بڑے ممنون ہیں۔ان کو ہزار کام ہیں۔ایک تجارتی ادارہ ہے اور انہوں نے اپنے پیسے بھی بنانے ہوتے ہیں یعنی با وجود تعلق اور پیار اور قرآن کریم کے کام کو پاک اور مقدس کام سمجھنے کے پھر بھی تین سال لگ گئے۔یہاں ہمارا پریس جیسا لگا نا چاہئے اگر اللہ کی توفیق سے ویسا لگ جائے تو