خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 460 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 460

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۶۰ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار جماعت احمدیہ کو بھی مدعو کیا گیا اور وہاں جماعت کے نمائندے نے شرکت کی۔دوسرے مسلم ممالک یا مسلم مجالس کے جو نمائندے وہاں آئے تھے ، وہ اتنے متاثر ہوئے کہ بلا استثناء سب نے آکر ہمارے نمائندے کی تعریف کی اور اس موقف سے بہت متاثر ہوئے جو اُس نے لیا۔جو اسلام کا سچا موقف اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی تعلیم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حقیقی پیغام ہے۔الحمد للہ علی ذلک۔اس میں مکرم و محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی شامل ہوئے تھے۔بظاہر جماعت کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں ویسے جماعت کے نمائندے کی حیثیت سے ہی میں کہوں گا۔بظاہر میں نے اس لئے کہا کہ جماعت احمدیہ کے ہر فرد کو جو بھی ملا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اُس برکت کے طفیل سے ملا ہے جو محمد سے آپ نے لی اور آپ کی امت کو آپ نے دی۔ایک اور فضل یہ ہوا کہ امریکہ کے ایک شہر کلیولینڈ (Cleveland) کی چابی جماعت کے ایک نمائندے کو دی گئی۔وہاں دستور یہ ہے کہ جب کسی شخص کی عزت افزائی کرنی ہو تو با قاعدہ سیر یمنی (Ceremony) کر کے اُس کو شہر کے دروازے کی چابی دیتے ہیں۔یہ پرانا دستور ہے جبکہ فصیلیں ہوتی تھیں اور دروازے بند ہوتے تھے اس وقت سے یہ رسم چل رہی ہے۔تو امریکہ کے ایک شہر، اُس امریکہ کے ایک شہر نے جو عیسائیت کا اس وقت گڑھ ہے ، اپنی روایات کے مطابق با قاعدہ سیر یمنی (Ceremony) کر کے اس جماعت کے نمائندے کو چابی دی جو اس واسطے کھڑی کی گئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں کہ میں اس لئے مبعوث ہوا ہوں کہ اس صلیب کو دلائل سے توڑ دوں جس نے مسیح کی ہڈیوں کو توڑا اور آپ کو زخمی کیا۔الحمد للہ علی ذلک۔تحریک جدید کے مجاہدہ کے میدان میں اس وقت مختلف ممالک میں چونسٹھ مبلغین مبشرین کام کر رہے ہیں لیکن باہر سے اتنی مانگ آرہی ہے جتنا میں پریشان رہتا ہوں جماعت کو بھی پریشان کروں گا تا کہ آپ بھی سوچیں۔میں کہتا ہوں کہ میں اور آپ ایک وجود ہیں تو میرے ساتھ آپ کو بھی پریشان رہنا پڑے گا۔!