خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 457 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 457

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۵۷ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطاب باہر جا کر ہر ایک سے بے تکلف ہوتا ہوں۔ایک لاکھ چون ہزار کی امدادی رقم کا بڑا حصہ وہ ہے جو ان کے اخراجات کا چوتھا حصہ ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ سوالا کھ ایسا ہے جو لینے والوں کے اخراجات کا چوتھا حصہ ہے۔باقی ان کی اپنی تنخواہ ہے جو وہ آسانی سے پورا کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی یہ ایک نعمت ہے جو اس سال بھی ہم پر نازل ہوئی اور غیروں کے لئے نمونہ بن گئی۔پھر حضور پُر نور نے بچوں اور نو جوانوں کو مخاطب کر کے فرمایا۔بچو! اب میں تمہاری ضرورتیں بھی بتا دیتا ہوں۔تمہاری ضرورت ہے تعلیم کی اگر تو ہو تم ذہین تو خدا نے اپنے فضل سے مجھے جماعت میں اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ تمہارا خاندان اگر تمہیں نہیں پڑھا سکتا تو میں تمہارے پڑھانے کا ذمہ لیتا ہوں لیکن اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں پڑھنے والا ذہن عطا نہیں کیا تو احمدی پیسوں کو اپنے پر ضائع کرنے کی کوشش نہ کرو۔اس کے علاوہ گذشتہ سال جماعت میں یہ اعلان بھی کیا تھا کہ کوئی احمدی بھوکا نہ رہے۔شروع میں تو میرے پاس رپورٹیں بھی آتی رہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اسی نوے فیصد مقامات پر لوگوں نے اس بات کا خیال رکھا۔میں نے بتایا تھا ایک حد تک ایک دھیلہ خرچ کیے بغیر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خواہش کو پورا کر سکتے ہیں کیونکہ آپ نے فرما یادو کا کھانا تین کے لئے کافی ہے، تین کا چار کے لئے کافی اور چار کا پانچ کے لئے۔ہر خاندان آپ کے اس ارشاد کی روشنی میں شخص کا کھانا نکال سکتا ہے۔اگر کسی محلے میں ہیں پیٹ ایسے ہیں جو بھو کے ہیں اور ان کی ضرورت پوری نہیں ہو رہی تو ایک پیسہ ایک دھیلہ خرچ کئے بغیر ان کی روٹی کا انتظام ہو جائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر کتنی وسیع اور کتنی گہرائی میں جانے والی تھی۔ایک جگہ آپ نے یہ فرمایا اور دوسری جگہ فرمایا کہ ایک کا کھانا دو کے لئے اور دو کا چار کے لئے پورا ہوتا ہے۔ہمارے امیر گھرانوں میں تو ایک کا دو میں اور دو کا چار میں پورا ہوتا ہے۔ان کے اوپر زیادہ ذمہ داری ڈالی ہے۔متوسط کو کہا کہ اپنے گھر سے ایک کھانا نکال دے۔چار افراد کا ہے، پانچ کا ہے ایک کھانے کی ذمہ واری اس کے اوپر ڈال دی۔جو امیر ہے اس کو کہا کہ جتنے افراد تمہارے خاندان کے ہیں اگر سات ہیں تو سات کا نکالو تمہیں عادت پڑی ہوئی ہے، تم زیادہ کھانے پکواتے ہو، زیادہ کھانا پکواتے ہو۔اس لئے اس کے اوپر یہ ذمہ واری ڈال دی۔