خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 452 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 452

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۵۲ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار تیرے ساتھ اچھے اور پاک جانور اور بد اور ناپاک جانور شامل ہیں کچھ ایسے انعامات بھی ہیں جو تیرے لئے مخصوص رکھے گئے ہیں اور انسان کے علاوہ دوسری کوئی مخلوق اس کی حصہ دار نہیں بن سکتی۔خدا کی نعمتوں کو دیکھ کر اور ان نعمتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کر کہ جوتد بیر، مجاہدہ اور دعا کے نتیجہ میں تو حاصل کر سکتا ہے تا کہ وہ امتیاز جو فطرت انسانی اور فطرت غیر انسانی میں رکھا گیا ہے تیری عملی زندگی میں وہ امتیاز نمایاں ہو جائے اور انسان، حیوان اور دوسری مخلوقات سے علیحدہ اور ممتاز ہو جائے۔خدا تعالیٰ کی نعمتیں بے شمار ہیں موسلا دھار بارش کی طرح ہم پر وہ نازل ہوتی ہیں اور انسانی طاقت میں نہیں کہ ان کا شمار کر سکے اور خدا انسان کو یہ کہتا ہے کہ اے داؤد کی اولاد! شکر کرو۔ایسا شکر جو محض زبان سے نہ ہو بلکہ عمل سے کیا جائے۔ہر سال جہاں ہم اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کو دیکھتے اور ہمارا سینہ اور ہمارا دل اور ہماری روح اور ہماری عقل اور ہمارے وجود کا ذرہ ذرہ اور ہماری روح کا ہر پہلو خدا تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے وہاں اس کے ساتھ یہ فطری جذبہ بھی ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے کہ جو آنے والا سال ہے خدا کرے کہ ہم اس سے یہ توفیق پائیں کہ گزشتہ سال کی نسبت زیادہ نعمتوں کے ہم وارث بنیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا زیادہ نعمتوں کے وارث تو تم تبھی بنو گے، جب اس پر جو تمہیں ملا، شکر کرو۔اگر جو عطا ہو چکا تم اس کو صحیح مصرف میں نہ لا ؤ اور اس کے شکر گزار بندے نہ بنو تو کس منہ سے تم مزید کی اور زائد کی اور بہتر کی اور احسن کی التجا کر سکو گے۔پس جومل چکا ہے اس کو صحیح مصرف میں لاؤ۔اس کے نتیجہ میںاللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔اس کی حمد سے اپنی زندگیوں ، اپنے اوقات ، اپنے دنوں اور اپنی راتوں کو معمور کر دو۔تب اللہ تعالیٰ تمہیں اور دے گا۔تب اللہ تعالیٰ تمہیں شکر کی بھی مزید توفیق دے گا کیونکہ اور کے ساتھ ہی یہ آ جاتا ہے کہ شکر کی زیادہ تو فیق ملی۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو سال گزشتہ میں دیا۔ہم پر جو نعمتیں اللہ تعالیٰ کی اس سال میں ہوئیں جواب ختم ہونے کو ہے، ان کا ہم شمار کیا کرتے ہیں اس بے تکلف مجلس میں لیکن ذہن میں یہ رکھیں کہ ایک تو جن چیزوں کا ذکر ہے صرف وہ نعمتیں ہمیں نہیں ملیں۔نعمتیں تو بے شمار ہیں۔ہماری