خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 441 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 441

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۴۱ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطار کتب کی کثرت اشاعت سے مراد یہ ہے کہ نئے سے نئے علوم لعیں گے دوسرے روز کا خطاب جلسہ سالانہ فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۰ء بمقام ربوہ کی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیات تلاوت فرمائیں۔نَ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ ، وَإِنَّ لَكَ لأخرً ا غَيْرَ مَمْنُونِ (القلم : ۲ تا ۴) پھر حضور انور نے فرمایا:۔ہماری یہ مجلس ہر سال ہی بے تکلف مجلس ہوا کرتی ہے۔جہاں ان فضلوں اور رحمتوں کا خصوصاً ذکر ہوتا ہے جو سالِ رواں میں اللہ کی رحمت سے جماعت حاصل کرتی ہے وہاں کچھ نئی کتب چھپتی ہیں کچھ کتب کے نئے ایڈیشنز شائع ہوتے ہیں ان کا علم میں جماعت کو دیا کرتا ہوں اور ان کے خریدنے کی طرف توجہ دلا یا کرتا ہوں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی یہ ایک عظیم اعلان بھی کیا گیا کہ قلم اور دوات اور اشاعت کتب اور رسائل کا زمانہ آ گیا ہے۔اگر ہم انسانی تاریخ پر اس نقطہ نگاہ سے نظر ڈالیں تو میں سمجھتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پہ جو قریباً چودہ سو سال گذر چکے ہیں آپ کی بعثت سے قبل کے چودہ سو سال میں جس قدر کتب اور جتنی تعداد میں کتب شائع ہوئیں۔ان چودہ سوسال کی کتب کے مقابلے ، اس زمانہ میں شاید ایک ماہ میں ان سے زیادہ کتب شائع ہو جاتی ہوں۔ویسے میری طبیعت کا رحجان تو یہ ہے کہ یقیناً اس سے زیادہ شائع ہو جاتی ہیں لیکن چونکہ ہم نے اعداد و شمار اکٹھے نہیں کئے اس لئے انسان احتیاط سے بولتا ہے۔یہ اتنا عظیم اعلان اور پیشگوئی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت کی گئی تھی جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔صرف یہی اعلان نہیں کیا گیا تھا کہ کتب کثرت سے شائع ہوں گی اور قلم اور دوات سے بہت کثرت سے !