خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 33
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۳ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب خدا شاہد ہے کہ پسر موعود کے شامل حال ایک عظیم الشان نور تھا اختتامی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۱ / دسمبر ۱۹۶۵ء بمقام ربوہ کی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔دوستو۔پیارو: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ قبل اس کے کہ میں اس مضمون کے متعلق کچھ کہوں جو میں آج بیان کرنا چاہتا ہوں میں دوستوں کو دو کتابوں کی خرید کے متعلق تحریک کرنا چاہتا ہوں۔ان کتابوں کے متعلق کل نہ تو مجھے یاد دہانی کرائی گئی اور نہ مجھے خود یاد آیا۔بعض اور دوستوں نے بھی آج مجھے اپنی کتب کے متعلق تحریک کرنے کے لئے کہا ہے لیکن چونکہ ہر اجلاس میں اس قسم کی تحریک کرنا مناسب نہیں ہوتی اس لئے میں نے ان سے معذرت کر دی ہے لیکن یہ دو کتابیں ایسی ہیں جن کے متعلق کچھ کہنے سے میں رک نہیں سکتا۔ان میں سے ایک تو قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ تفسیر ہے جو تحریک جدید کی طرف سے شائع کی گئی ہے۔قرآن کریم کی اشاعت کا سوال ہو اور میں خاموش رہوں یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا تھا۔سو انگریزی دان اور احمدی احباب اپنے لئے ، اپنوں کے لئے یا تبلیغ کی خاطر اس تفسیر کو خریدیں اور اس کی تقسیم اور اشاعت کا انتظام کریں۔دوسری کتاب ” مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تحریروں کی رو سے ہے اس کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے اقتباسات جمع کئے گئے ہیں اور محترم سید داؤد احمد صاحب نے اسے مرتب کیا ہے۔میں تمہیں عنوان ہیں جن کے تحت اقتباسات اکٹھے کیے گئے ہیں اور یہ ایک بڑا مفید مجموعہ بن گیا ہے گو کچھ لمبا ہے لیکن اسے مختصر بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔بہر حال یہ کتاب ایسی ہے جس سے پڑھے لکھے دوست ہر وقت فائدہ اٹھا سکتے ہیں ہر جماعت میں کم از کم اس کتاب کے ایک نسخہ کا ہونا ضروری ہے