خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 413 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 413

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۱۳ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب تو اتنا نیک بندہ تھا کہ وہ بدصحبت سے بھی بیزار تھا اور جس بد ماحول میں اس نے خود کو پایا اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے وہ ہمارے حضور جھکا اور اس نے ہم سے دعائیں کیں اور ہم نے اس و الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ تَعْمَلُ الْخَبيثَ، اس شہر اور قبیلہ سے جو فسق و فجور میں مبتلا تھا اور ان کی بدصحبت سے بھی اس کی دعاؤں اور اس کی زاری کی وجہ سے نجات دی پھر وہ خود اس فسق و فجور میں کیسے مبتلا ہو سکتا تھا۔اسی طرح حضرت الحلق علیہ السلام پر دروغ گوئی کا الزام لگایا گیا، لیکن قرآن کریم نے الے فرمایا کہ وہ ایک بزرگ امام تھے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے قوم کو ہدایت دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے دنیا کو مخاطب کر کے یہ اعلان کیا کہ حضرت اسحاق علیہ السلام ہماری اطاعت اور عبودیت میں زندگی گزار نے والوں میں سے تھے۔حضرت ہارون علیہ السلام پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ بچھڑا پرستی جیسے گھناؤنے گناہ کے مرتکب ہوئے انہوں نے زیورات اکٹھے کر کے شرک کے لئے بچھڑا بنوایا تھا۔لیکن قرآن کریم نے ہمارے کانوں میں آ کر پھونکا کہ ہارون علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کر کے کہا تھا:۔وَ إِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِى (طه: ۹۱) یعنی تم کدھر بچھڑے کی طرف جا رہے ہو تم رحمان خدا کی طرف آؤ جو بغیر تمہارے استحقاق کے تم پر فضل کر رہا ہے۔یہ اس بچھڑے کے خلاف بڑی عجیب دلیل دی ہے۔کہا کہ تم اللہ تعالی کی خدمت کے اہل ہی نہیں لیکن اس کی بے شمار نعمتیں صبح سے شام تک تمہارے پر نازل ہوتی رہتی ہیں کیونکہ وہ رحمان خدا ہے لیکن یہ بچھڑا وہ ہے جو تمہارے ہاتھوں نے بنایا ہے اور یہ بچھڑے کی سب سے بڑی خدمت اور اس پر سب سے بڑا احسان ہے کہ تم اس کے خالق بنے۔اس لئے اگر تمہیں اس سے کچھ بھی مل گیا تو وہ تمہیں رحمانیت کے نتیجہ میں نہیں مل سکتا اور تم رحمانیت کے فیض سے باہر رہ کر کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہ مختصر سا بیان ہے۔حضرت ہارون علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے فضل گنائے ہوں گے کہ دیکھو اللہ نے تم پر فضل کیا۔اس کے مقابلہ میں تم نے اللہ تعالیٰ کی کون سی خدمت کی ہے۔یہاں تم تو اس بچھڑے کے خالق ہو اور اسے خلق کرنا تمہاری اس کی خدمت سمجھی جاسکتی ہے اور اول تو تمہیں اس سے ملے گا کچھ نہیں اور اگر وہ تمہیں کچھ دے گا تو وہ رحمانیت کے نتیجہ میں تو نہیں دے گا۔لے پیدائش باب ۲۶ آیت ۲۷،۶، پیدائش باب ۳۲ آیت ۱ تا ۶