خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 384
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۸۴ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطار نہیں۔بس اس کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے میں سمجھتا ہوں یہ بڑا ضروری ہے۔اب وقت بہت زیادہ ہو گیا ہے لیکن صد را مجمن احمد یہ اور جماعت کے متعلق میں ضرور کچھ کہنا چاہتا ہوں۔پہلے جماعت پاکستان کے متعلق یا مجھے یوں کہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بڑی ہی عجیب اور پیاری جماعت پیدا کی ہے۔دنیا میں آپ کو کہیں یہ نظارہ نظر نہیں آتا کہ اللہ کی راہ میں اس طرح مال کی قربانی دینے والے ہوں کہ دنیا دار نگاہ ان قربانیوں کو حماقت سمجھے بیوقوفیاں سمجھے یہ مالی سال جس کا ابھی کچھ حصہ گذرا ہے اور کچھ حصہ باقی رہتا ہے۔صدرانجمن احمدیہ کے چندہ جات کے علاوہ اور بھی بہت سے مالی بوجھ جماعت پر ڈال رہا تھا۔مثلا فضل عمر فاؤنڈیشن کے بقائے جو تھے۔وہ آخری دو مہینوں ( یعنی مئی اور جون ) میں وصول ہونے تھے۔اس کے علاوہ تحریک جدید کے چندے تھے۔چار لاکھ کے قریب تو صرف فضل عمر فاؤنڈیشن کے وعدوں کی اس عرصہ میں وصولی ہوتی ہے اور یہ بڑی قربانی ہے اور تحریک جدید اور وقف جدید کے سال ختم ہوتے ہیں۔ان کے وعدوں کے پورا کرنے کی طرف توجہ دی گئی اس کے باوجود چوبیس دسمبر تک صدر انجمن احمد یہ کے چندوں کی وصولی میں سوا دولاکھ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔اس سے پچھلے سال ۸۵ پچاسی ہزار وپے کا اضافہ تھا لیکن اس سال باوجود اس کے کہ ہم نے زورد یا فضل عمر فاؤنڈیشن کے وعدے پورا کرو دوسرے عطایا دو اس کے باوجود پچاسی ہزار کے مقابلے میں سوا دو لاکھ روپیہ زائد وصول ہوا ؟ ہے۔الحمداللہ۔اللہ تعالیٰ ہی اس جماعت کو پہچان سکتا ہے۔اسی نے یہ قوت اور استعداد بخشی اور نیکی کی توفیق دی ہے اور وہی جزا دینے والا ہے۔میرے جیسوں کی دعائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتی ہیں ہم کمزور انسان ہیں آپ کو کچھ دے نہیں سکتے دروازہ ہم کھٹکھٹاتے ہیں آپ کے لئے۔وہی دروازہ آپ کھٹکھٹائیں اپنے لئے بھی اور ہمارے لئے بھی۔ہم بھی اپنے لئے اور آپ کے لئے وہی دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی نیکی کو دیکھے آپ کے دل میں اپنی محبت کو پائے اور اس کے مطابق آپ کو جزا دے۔اگر کوئی بشری کمزوری رہ گئی ہو تو رب غفور نظر دوسری طرف کر لے۔جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں یا جیسا کہ ہم میں کوئی کمزوری ہی نہیں اور وہ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (النحل : ٩٧) کے مطابق آپ کو جزا دینے والا ہو اور ہم پر بھی اپنا رحم کرنے والا ہو۔