خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 379 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 379

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ٣٧٩ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ ء۔دوسرے روز کا خطار -------- اس بات پر کہاں پابندی لگائی جاسکتی ہے کہ ایک عرب ہمارے ایک احمدی دوست سے۔اور چند گھنٹے تبادلہ خیال کرنے کے بعد کہنے لگے میری بیعت لے لو۔اس احمدی دوست نے انہیں جواب دیا کہ ابھی تم نے کچھ سیکھا نہیں تمہاری بیعت میں نہیں لوں گا کتا بیں لے جاؤ پڑھو اور جب تسلی ہو جائے اور اگر تسلی ہو جائے تو پھر بیعت کر لینا ٹھیک ہے۔وہ کہنے لگے مجھے کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔یہ غالبا ۱۹۶۷،۶۸ء کی بات ہے یعنی آج سے دو اڑھائی سال پہلے کی بات ہے صحیح وقت مجھے یاد نہیں رہا۔غرض وہ کہنے لگے کہ مجھے کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں اور یہ اس لئے کہ میرے والد ۱۹۵۸ء میں یعنی دس سال پہلے فوت ہوئے تھے اور اپنی وفات کے وقت انہوں نے اپنے لڑکوں کو اپنے پاس بلایا اور انہیں کہا کہ میں تمہیں ایک وصیت کرنی چاہتا ہوں اسے بھولنا نہیں اور وہ وصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے الہاماً بتایا ہے کہ وہ مہدی منتظر اور مسیح موعود جس کا وعدہ دیا گیا تھا وہ ظاہر ہو چکا ہے لیکن میں ایک بد بخت انسان ہوں کہ مجھ سے اس کا ملاپ نہیں ہوسکا اور اس کی جماعت میں شامل ہوئے بغیر ہی اس دنیا کو چھوڑ رہا ہوں میری تمہیں یہ وصیت ہے کہ جب بھی تم اس کا نام سنو اس کی جماعت میں داخل ہو جاؤ۔یہ کہہ کر اس عرب دوست نے کہا میں نے کتا بیں نہیں پڑھنی میرے باپ کو الہاما بتایا گیا تھا۔میر املاپ ہو گیا ہے میں نے دیر نہیں کرنی میری ابھی بیعت لے لو۔چنانچہ اس نے پھر بیعت کر لی۔وہاں اس کے ساتھ دو اور ساتھی تھے ان کو جا کر رات خوب تبلیغ کی اور اگلے دن ان کی بھی بیعت کروا دی۔پھر وہ وہاں سے کئی سو میل دور ایسے علاقے میں چلے گئے اور چند مہینوں کے اندر کئی جگہوں پر اس کے علاقے میں جماعتیں قائم ہو گئیں میرے خیال میں کوئی چالیس کے قریب خاندان یعنی اس میں بچے عورتیں شامل نہیں بلکہ چالیس کے قریب خاندان اس پہلے نئے احمدی دوست کی تبلیغ کے نتیجہ میں احمدی ہو گئے۔علاوہ ازیں اور خبریں بھی آرہی ہیں کہ کئی جگہ پر بعض خاندان یعنی جماعتوں کے رنگ میں (انفرادی طور پر نہیں ) احمدی ہو گئے ہیں۔اب آسمان سے فرشتوں کے نزول پر تو پابندی نہیں لگائی جا سکتی اب اگر وہ آکر کسی کو کہیں الہام یا کشف یا رویاء میں کہ اللہ کے نزدیک مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے روحانی فرزند ہیں ان سے دور نہ رہنا کہ تم اللہ تعالیٰ کی محبت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کو پھر پا نہیں سکو گئے۔پس دنیا جو مرضی سمجھے سمجھتی