خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 28
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطار وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (الانفال: ۶۴) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو آپس میں باندھ دیا۔اگر تو جو کچھ زمین میں ہے ان پر خرچ کر دیتا تو بھی ان کے دلوں کو اس طرح باندھ نہیں سکتا تھا اور ان میں اخوت پیار اتحاد اور استحکام کی کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان میں باہمی محبت پیدا کر دی ہے یقینا اللہ تعالی ہی غالب اور حکمت والا ہے۔اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ پانچ ستمبر کی شام کو پاکستان کی قوم ایک منتشر حالت میں سوئی تھی حکومت وقت سے اختلاف رکھنے والے لاکھوں کی تعداد میں موجود تھے اور حکومت سے بڑے اختلاف رکھتے تھے لیکن جب چھ ستمبر کی صبح کو سورج طلوع ہوا تو اس نے ایک متحد اور مستحکم قوم پر اپنی کرنیں پھینکیں۔ایک رات کے اندر اندر ساری قوم ایک جان ہوگئی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم دنیا کے تمام مال اور دنیا کے تمام اسباب بھی خرچ کر دیتے تو اس قسم کا اتحاد اور اتفاق پیدا نہ ہوسکتا۔یہ اتحاد اور استحکام اس وقت پیدا ہوتا ہے لكِنَّ اللهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہ پیدا ہو چھ ستمبر کو ہم نے دیکھا کہ یہ اتحاد قائم ہو گیا قوم مستحکم ہوگئی اس سے لازماً ہمیں یہ نتیجہ نکالنا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آسمان سے یہ حکم نازل کیا تھا کہ اے پاکستانیو! تم پر نازک وقت آیا ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تم فرد واحد کی طرح ایک ہو جاؤ اور آپس کے سب اختلافات بھول جاؤ۔اس ضمن میں ہم نے اپنی قوم کے باہمی اتحاد اور اتفاق کا ایک اور عجیب نظارہ بھی دیکھا کہ نومبر میں ہماری جماعت پر جو عظیم قیامت خیز زلزلہ آیا۔یعنی حضرت مصلح موعود جیسا محسن وجود ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہو گیا۔تو اس موقع پر باوجود اعتقادی اختلافات کے ہزاروں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ غیر از جماعت دوستوں نے بسوں میں سیٹیں چھوڑ دیں اور خود باہر نکل آئے اور احمد یوں سے کہا کہ ہماری جگہ پر بیٹھ کر تم ربوہ چلے جاؤ۔تمہارا وہاں وقت پر پہنچنا ضروری ہے۔ہم پچھلی بس لے لیں گے۔یہ نتیجہ تھا اتحاد اور اتفاق کا جو خدا تعالیٰ نے ہماری قوم کے اندر پیدا کر دیا تھا۔تیر افضل جو اللہ تعالیٰ نے ہماری قوم پر کیا اور جو بالواسطہ نوعیت کا ہے یہ ہے کہ جب کسی