خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 376 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 376

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطار پوشیدہ گناہ کی وجہ سے بال آجاتے ہیں وہ پرے پھینک دیئے جائیں گے لیکن صاف شفاف خوبصورت دھلی ہوئی نیک پاک روحیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں (اب مثالیں تو یہی ، سکتے ہیں خواہ روحانی چیزیں ہوں یا جسمانی) خواہشات کو دبانے والے، ذہن کو صاف کرنے والے آپ کی راہ میں اپنی آنکھوں کو بچھانے والے اس تڑپ میں ہر وقت بے کل اور بے چین رہنے والے کہ اس خاک پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کیوں پڑیں ہمارے سروں پر اور ہماری آنکھوں پر یہ پاؤں پڑتے ہوئے سالار قافلہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے ایسے دل چاہئیں۔ایسی عقل و فراست چاہئے۔ایسی پاکیزہ روحیں چاہئیں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں پاکیزہ بنا دے اور کوشش کریں کہ وہ بچے ہمیں ملیں تا کہ ہم ان کو ٹرینگ دیں ہم ان کو علم دیں۔تحریک جدید نے امریکہ مشن کے لئے اپنے رسالوں اور لٹریچر کی اشاعت کے لئے ایک نیا پر لیس خریدا ہے۔میں ضمناً یہ بات بتا دیتا ہوں کہ ہمیں بھی یہاں ایک نئے اور اچھے پریس کی بڑی ضرورت ہے۔ایسے پریس کی ضرورت ہے جو اردو کا جو عربی کا جو انگریزی کا اور جو فرانسیسی کی کتب شائع کرنے کا ذریعہ بنے۔ابھی جب سوال پیدا ہوا فرانسیسی ترجمے کی اشاعت کا وہ میں آگے بتاؤں گا اور یہ بھی بتاؤں گا کہ اس قسم کا پر لیس نہ ہونے کی وجہ سے کیا دقت پیدا ہوئی۔اس عرصہ میں برٹش گی آنا میں ایک نئی مسجد تعمیر ہوئی۔الحمد اللہ۔ایک اور مسجد کی تعمیر کے لئے پلاٹ حاصل کر لیا گیا ہے۔ثم الحمد اللہ۔ڈچ گی آنا میں ایک سکول کا اجراء کیا گیا۔ثم الحمداللہ۔ایک مخلص احمدی دوست کے جنہوں نے اس سال بیعت کی یعنی ڈاکٹر کیوسی (Chiussi) ان کی کوشش سے اسپر نٹو زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ شائع ہوا ہے۔مرکز کی طرف سے جماعت کو یہ خبر نہیں دی گئی تھی کہ اس ترجمہ کو شائع کرنے کے لئے ایک ہزار پاؤنڈ باہر کے مشنوں کی طرف سے (یہاں تو ایچینج ہمیں ملتا لیکن باہر کی جماعتوں کو اللہ تعالیٰ نے بڑا رزق دیا ہے انہوں نے یہ رقم دی لیکن نام مرکز ہی کا ہوتا ) دیا گیا اور یہ ڈاکٹر کیوسی ایک بڑا ہی مذاقی انسان ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے جب میں دورے پر گیا تو یہ مجھے ملنے آئے بڑی محبت سے ملتے تھے۔امیر و ڈرم پر لینے آئے پھر وہاں چھوڑنے آئے مجھے تو یاد نہیں رہا انہوں نے ہی بعد میں لکھا۔میں نے چلتے وقت کہا مجھے خط لکھتے رہنا انہوں نے وہ یادرکھا اور دو تین مہینے مجھے خط نہیں لکھا اور پھر ۴ صفحے کا ٹائپ خط لکھا