خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 368
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۶۸ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطار لکھوا دیا تھا۔چنانچہ وہ کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں بیعت کرتا ہوں اور بیعت فارم پر دستخط کرتا ہوں۔کیونکہ میں نے وہاں امام کو لکھا تھا اور انہوں نے کہا ہے کہ بیعت فارم پر دستخط کر کے بے شک تم جماعت میں داخل ہو جاؤ۔اس واسطے ضرورت ہے تو انہوں نے لکھا اگر بیعت کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی تو وہ مجھے اجازت کیوں دیتے چنانچہ اس نے بیعت کر لی اور اسے دیکھ کر اس وقت تو دو اور دوستوں نے بیعت کی۔ہیں تو تمیں پینتیس خاندان لیکن ان میں سے بچھپیں خاندان احمدی ہو گئے۔میں نے بتایا ہے کہ ہیولی باقی تھا اور روح گم تھی۔جس وقت وہ احمدی ہوئے تو روح میں ایک زندگی پیدا ہوئی اور جسم نے ایک کروٹ لی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بچوں کو قرآن نہیں آتا اسلام کا پتہ نہیں انہیں قرآن اور اسلام سکھانے کا انتظام کرو۔عجیب بات یہ ہے کہ اپنے ملک سے ہجرت کی تھی اسلام کو بچانے کے لئے اور جب احمدیت میں داخل ہوئے تو پھر ان کو یہ احساس ہوا کہ اسلام تو ہمارے پاس کوئی نہیں ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کی شان ہے سوچا کریں کہ اللہ تعالیٰ رحم کرتا ہے اور کس طرح اپنی شان کے نظارے دکھاتا ہے۔وہ لوگ جو نسلاً بعد نسل مسلمان تھے ان کے دلوں میں جب یہ احساس پیدا ہوا کہ ہمارے بچوں کو قرآن اور اسلام سیکھنا چاہئے تو ان کی غیرت پر تازیانہ لگانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی نو مسلمہ بچی کو انہیں قرآن سکھانے کے لیے مقرر کروایا جس نے دو سال ہوئے اسلام قبول کیا تھا۔یہ بچی جس کا میں نے ذکر کیا ہے ۲۴ جولائی ۱۹۶۷ء کو مسجد میں ہماری غیر حاضری میں ہمارے انتظار میں مسجد میں بیٹھی ہوئی تھی۔میں اور ساری جماعت اور مبلغین کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔جب ہم واپس آئے تو ہمیں پتہ لگا کہ اس طرح یو نیورسٹی کی ایک نوجوان طالبہ آئی بیٹھی ہے تو میں نے ایک آنریری مبلغ کو جو ناروے کے تھے اور سویڈن کے ان دونوں سے کہا کہ تم اس سے باتیں کرو۔پتہ نہیں کس نیت سے آئی ہے بعض دفعہ کسی سے کوئی رشتہ کرنا ہوتا ہے اور آ جاتے ہیں کہ ہمیں مسلمان کر لو۔اس نے اس سے باتیں کیں اور بتایا کہ تمہیں اسلام کا کچھ بھی پتہ نہیں یعنی ۲۴ جولائی ۱۹۶۷ء کو اس بچی کو کہنا پڑا کہ تمہیں اسلام کا کچھ بھی پتہ نہیں کتابیں لے جاؤ اور اسلام کو پڑھو تسلی ہوئی تو آنا اور بیعت کر لینا۔مگر وہ بضد رہی اور کہنے لگی کہ مجھے اپنے امام سے ملواؤ۔