خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 367
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۶۷ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کی رضا کی لذت ہم پہلے سے زیادہ محسوس کرنے والے ہوں۔تحریک جدید کے کاموں میں سے جو چیز نمایاں طور پر سامنے آتی ہے۔وہ یہ ہے کہ سال رواں سال میں یعنی جو سال اب ختم ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے سویڈن میں (ڈنمارک جہاں ہماری مسجد عورتوں کے چندے سے بنی ہے اس کے ساتھ الگ ملک سویڈن ہے۔یہ ممالک سکنڈے نیویا بھی کہلاتے ہیں یعنی ایک ڈنمارک دوسرا سویڈن تیسرا ناروے) ایک جگہ پر ہی نہیں گوٹن برگ میں یا اس کے قریب جگہ ہے وہاں ایک بڑی جماعت قائم ہوگئی ہے۔ہوا یہ کہ وہاں یوگوسلاویہ کے مہاجر ترک مسلمان خاندان آباد تھے جو اشتراکیت کے نفوذ کے وقت اپنے خاندانوں کی حفاظت اور اپنے اسلام کی حفاظت کے لئے اپنے ملک سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہو گئے تھے۔ایک ھیولی زندہ تھا اور حقیقت غائب تھی۔ڈنمارک قریب ہے وہ یہاں آئے مسجد دیکھی باتیں سنیں کچھ توجہ پیدا ہوئی۔ان میں سے ایک نے یوگوسلاویہ میں اپنے امام کو خط لکھا کہ اس طرح یہاں جماعت کام کر رہی ہے مجھے بتاؤ کہ تمہارا فتویٰ کیا ہے کیا میں بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو جاؤں۔یوگوسلاویہ میں مسلمانوں کے غالباً دو فرقے ہیں چنانچہ ان کے امام نے اس کو جواب دیا کہ تم بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو جاؤ۔ہمیں اس وقت پتہ نہیں تھا۔ہمارے آدمیوں سے انہوں نے تبادلہ خیال کیا ایک اکٹھ کیا گیا جس میں قریباً چھپیں خاندانوں کے سر براہ غالباً پچیس ہی خاندان تھے ممکن ہے کچھ خاندان ایسے بھی ہوں جن کا سر براہ ایک سے زائد ہو بہر حال پچیس نوجوان کمانے والے اور سمجھ دار اس میں شامل ہوئے۔جب ان سے یہ کہا گیا کہ تم اب بیعت کرلو۔کیونکہ وہ سلسلہ کے عقائد کی تائید کر رہے تھے تو انہوں نے کہا کہ بیعت کی کیا ضرورت ہے ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سچا مانتے ہیں۔پس ہمارے لئے بیعت کرنے کی کیا ضرورت ہے چنانچہ ہمارے مبلغ کو بڑی مشکل پیش آگئی۔کیونکہ ایک طرف تو یہ کہہ رہے تھے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سچا تسلیم کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ بیعت کرنے سے انکار کر رہے تھے۔ایسے وقت میں واقعی بڑی مشکل پڑ جاتی ہے۔کیونکہ اس کے پھر بہت سارے ایسے نتائج نکلتے ہیں جن میں بدمزگی پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔تو اس وقت خدائے علام الغیوب نے جس کو پتہ تھا کہ ایسے واقعات پیدا ہو جانے ہیں۔تو ان میں سے ایک سے اس سلسلہ میں خط