خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 363
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۶۳ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطا۔استعداد یں دی جائیں گی جو شدت احساس کی ہم خدا کے قرب کو حاصل کر کے اس کی محبت پا کر اس کی رضا کی جنت میں داخل ہوں احساس میں یہ شدت پہلے سے زیادہ تیز ہوگی۔پھر نتیجہ پہلے سے زیادہ نکلے گا پھر تمہارے دل میں شکر کے جذبات پہلے سے زیادہ پیدا ہوں گے۔پھر تم ہر قسم پر سوچ کر خدا کا شکر ادا کر رہے ہو گے۔پھر وہ ایک چکر چلے گا پھر ایک نیا جلسہ آئے گا پھر اس جلسہ پر اسی قسم کی باتیں دھرائی جائیں گی لیکن پہلے سے زیادہ بڑی شکل میں پہلے سے زیادہ حسین رنگ میں پہلے سے زیادہ خوبصورت طریقے پر وہ سامنے آتی رہیں گی۔جب تک قوم شکر کے اس مقام پر رہے گی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرتی چلی جائے گی اس کے انعاموں کی زیادہ سے زیادہ وارث ہوتی چلی جائے گی اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ یہی سلوک روارکھے۔فضل عمر فاؤنڈیشن یعنی جو اللہ تعالیٰ نے ماضی میں ہم پر احسان کئے ہیں اب میں ان کا ذکر کروں گا۔یہ تو ابھی میں نے تمہید بیان کی ہے۔فضل عمر فاؤنڈیشن کی تحریک جلسہ سالانہ ۱۳۴۵اهش (مطابق ۱۹۶۵ء) کو کی گئی تھی لیکن امان ۳۴۶ اھش ( مطابق مارچ ۱۹۶۶ء) سے اس پر با قاعدہ کام شروع ہوا۔جس وقت یہ تحریک ہوئی مکرم محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے یہ تحریک کی پھر غالبا میں نے کچھ وضاحت کی۔اس وقت میرا خیال تھا کہ اندرون پاکستان اور بیرون پاکستان سے اگر ۲۵لاکھ روپیہ اس فنڈ میں جمع ہو جائے تو اللہ تعالیٰ ہم پر بڑا فضل کرے گا۔اس کی میعاد ۳۰ را حسان ۳۴۸اهش ( یعنی ۳۰ جون ۱۹۶۹ء) اور بیرون پاکستان کیلئے ۳۰ فتح ۱۳۴۸اهش ( یعنی ۳۰ دسمبر ۱۹۶۹ء) تک مہلت دی گئی تھی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس وقت پچیس لاکھ کی حد مقرر کی گئی تھی۔مگر وہ قدر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی پیدا ہوئی تھی جو حوالہ میں نے کل پڑھا تھا اس کا ایک حصہ جو کل کے مضمون سے تعلق نہیں رکھتا تھا وہ میں نے چھوڑ دیا تھا۔اس میں آپ فرماتے ہیں کہ اب یہ سارے اللہ تعالیٰ کے نشان ہیں بلکہ دو باتیں چھوڑ دی تھیں۔بعد میں اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو بتایا اس میں ایک نافلہ بھی بطور نشان کے زائد کیا گیا تھا۔لیکن اس مضمون کے ساتھ اس وقت میرا تعلق نہیں تھا۔حضور فرماتے ہیں اس لئے میں فرض سمجھتا ہوں ان کی قدر کرنا۔اس کے بعد لکھتے ہیں اس میں سے ایک وہ ہے جو موعود ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت