خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 354 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 354

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۵۴ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطار تفسیر بیان کر دینا تو ان خطبات کا خلاصہ آ جائے گا۔چنانچہ مجھے بڑا لطف آیا لیکن ابھی تک مجھے موقع نہیں ملا کچھ دوسرے کام، کچھ دوسرے نئے مضامین ضرورت جماعت کے لئے سامنے آ جاتے ہیں اس واسطے انسان سلسلہ وار مضمون بیان نہیں کر سکتا بلکہ ضرورت وقت مثلاً مالی تحریک ہے۔تبلیغی اور اصلاحی تحریک ہے یہ درمیان میں آجاتی ہے ان کا مطالبہ ہوتا ہے یہ بہر حال پورا کرنا پڑتا ہے اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو سورۃ فاتحہ کی اقتصادی تفسیر بھی آجائے گی۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر سورۃ فاتحہ چھپ چکی ہے۔بڑی لطیف ہے اسے پڑھ کر بڑا مزہ آتا ہے اور جتنی دفعہ پڑھیں نئے سے نئے مضامین سوجھتے رہتے ہیں۔میرے تو بہت سارے خطبات کی بنیاد وہ Ideas ( یعنی نظریات ) ہوتے ہیں جو وہاں بکھرے ہوتے ہیں۔ان میں سے کسی نہ کسی پر ہی اپنے مضمون کی بنیاد رکھا کرتا ہوں یعنی وہاں سے ایک خیال لے لیا اور اس کو پھیلایا اور وہ خطبہ تیار ہو جاتا ہے۔یہ صحیح ہے کہ ہر آدمی اتنی وسعتیں حاصل نہیں کر سکتا۔علم کا ملنا بھی اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے وہی معلم حقیقی ہے۔غرض یہ ہے بڑی لطیف تفسیر دوستوں کو چاہئے کہ وہ اسے ضرور خریدیں۔میں سمجھتا ہوں کم از کم ہر نوجوان کوسورۃ فاتحہ کی یہ تفسیر اپنی بغل میں رکھنی چاہئے کیونکہ قرآنی مضامین کا اجمال سورۃ فاتحہ ہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ قرآن عظیم سورۃ فاتحہ کے اجمال کی تفصیل بیان کرتا ہے پس یہ مضامین جب آجائیں گے تو سارے قرآن کریم کی آوٹ لائنز (out lines) سامنے آجائیں گی۔اس لئے یہ تفسیر ہر عاقل بالغ پڑھے لکھے نو جو ان کے ہاتھ میں ہر وقت رہنی چاہئے بلکہ میں تو کہوں گا کہ سرہانے رکھنی چاہئے میرے تو سر ہانے پڑی رہتی ہے جب دو چار دس پندرہ بیس منٹ کا مجھے وقت ملتا ہے تو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی نہ کوئی کتاب پڑھنی شروع کر دیتا ہوں اور وہ وقت ضیاع سے بچ جاتا ہے اور اس وقت میں ایک لذت اور سرور حاصل کرتا ہوں۔غرض میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی اس سے محروم نہ رہیں یہ عادت ڈالیں اور یہ کتاب ضرور خریدیں۔پھر تاریخ احمدیت جلد دہم ہے جو ۱۹۴۴ء ۱۹۴۷ء کے حالات پر مشتمل ہے اور جوڑ ملانے کے لئے کہیں وہ آگے نکل گئے ہیں اور کہیں پیچھے سے جوڑ ملایا ہے۔اس لئے زمانہ کے لحاظ