خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 25 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 25

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۵ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطاب واقعات بیان فرمائے گئے ہیں۔ان میں بعض اصول بیان کئے گئے ہیں جو آئندہ آنے والوں کے لئے مشعل راہ ہیں لہذا ان آیات میں گو ایک مخصوص جنگ کی طرف اشارہ ہے لیکن جو اصول ان میں بیان کیا گیا ہے وہ دائمی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے تیری خواب میں تجھے ان کافروں کو کم کر کے دکھایا تھا۔تا کہ مومن جب یہ خواب سنہیں تو اس کی تعبیر سُن کر خوش ہوں۔اگر خواب میں دشمن تھوڑا نظر آئے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ شکست کھا جائے گا۔چنانچہ بتایا اگر تجھے وہ کفار بڑی تعداد میں دکھائے جاتے تو تم ضرور کمزوری دکھاتے اور کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس خواب میں انذار کیا ہے کہ ہمیں شکست ہوگی اور اس معاملہ میں یعنی لڑائی کے بارہ میں آپس میں جھگڑتے کہ لڑائی کی جائے یا نہ لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو محفوظ رکھا وہ دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے اور یاد کرو جب کہ وہ ان کفار کو تمہاری نظر میں لڑائی کے وقت کمزور دکھاتا تھا اور قبل از جنگ تم کو ان کی نظر میں کمزور اور قلیل التعداد دکھاتا تھا تا کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پورا کرے جس کا وہ فیصلہ کر چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی سب باتیں لوٹائی جائیں گی۔اس طرح فرمایا:۔قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةً فِي فِئَتَيْنِ الْقَنَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَ أُخْرَى كَافِرَةٌ ط يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأَى الْعَيْنِ وَاللهُ يُؤيّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ (آل عمران : ۱۴) یعنی ان دو گروہوں میں جو ایک دوسرے سے برسر پیکار تھے تمہارے لئے یقیناً ایک نشان تھا ان میں سے ایک گروہ تو اللہ تعالیٰ کے رستہ میں جنگ کرتا تھا اور دوسرا منکر تھا وہ یعنی مسلمان ان کافروں کو آنکھوں سے اصل تعداد سے دو چند نظر آ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی مدد سے قوت بخشتا ہے اس بات میں آنکھوں والوں کے لئے یقیناً ایک نصیحت ہے کہ کبھی آنکھیں باذن اللہ دھو کہ کھاتی ہیں اور اس شخص کی تباہی کا باعث بن جاتی ہیں۔اس آیت کو پہلی آیات سے ملا کر دیکھا جائے تو ہمیں یہ مضمون نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو لڑائی سے پہلے مسلمانوں کی تعداد کم دکھاتا ہے اور جب وہ کسی قوم کو ذلت آمیز شکست