خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 345
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۴۵ ۲۶ دسمبر ۱۹۶۹ء۔افتتاحی خطاب اے ہمارے بچے اور حقیقی محسن ! ہمیں اپنی محبت کی نعمت سے مالا مال کر افتتاحی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۶۹ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب اُمتِ مسلمہ کو اس طرف پکارا کہ غلبہ اسلام کے لئے مجھے مبعوث کیا گیا ہے میری طرف آؤ اور میرے انصار بنو۔اللہ کی راہ میں ، اسی کی رضا کے حصول کے لئے قربانی دو اور ایثار دکھاؤ تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی فرمایا :۔اور اس قدوس جلیل الذات نے مجھے جوش بخشا ہے تا میں ان طالبوں کی تربیت باطنی میں مصروف ہو جاؤں اور ان کی آلودگیوں کے ازالہ کے لئے دن رات کوشش کرتا رہوں اور ان کے لئے وہ نو ر مانگوں جس سے انسان نفس اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے اور بالطبع خدا تعالیٰ کی راہوں سے محبت کرنے لگتا ہے اور ان کے لئے وہ روح قدس طلب کروں جو ربوبیت تامہ اور عبودیت خالصہ کے کامل جوڑ سے پیدا ہوتی ہے اور اس روح خبیث کی تسخیر سے ان کی نجات چاہوں کہ جو نفس امارہ اور شیطان کے تعلق شدید سے جنم لیتی ہے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۱۶۵) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے آگے فرمایا:۔اُن کی زندگی کے لئے موت تک دریغ نہیں کروں گا۔“ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نائب اور خلیفہ کی حیثیت سے میرے دل میں بھی یہ جوش پیدا کیا ہے کہ میں اپنے ربّ کریم سے آپ دوستوں کے لئے انہی باتوں کو چاہوں