خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 339
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۳۹ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب کہانی تھی اب نیم کہانی کچھ حقیقت بن گئی ہے اس دنیا میں وہ اپنی ساری Energy اور طاقت سورج کی روشنی سے حاصل کرتی ہے ایسے انجن اس میں لگے ہوئے ہیں۔تو ایک شخص نے ایک ایجاد کی کہ ایک ایسا چراغ میں بناؤں گا کہ جس کی روشنی کا مقابلہ کوئی اور روشنی نہیں کرے گی اور وہ خود بخو دروشن ہو جائے گا صرف اس تدبیر کی ضرورت ہے جس سے میں عام ذرائع روشنی پیدا کرنے یا اس کا استعمال کر سکوں اور اب اس کا مقصد ایک لیمپ ہے جس سے میں ایک دنیا کو روشن کر کے اپنی شان بڑھانا چاہتا ہوں اور اس نے کہا میں سات منزلہ ایک مینار بناؤں گا اور ساتویں منزل کے اوپر ایک عرشہ بناؤں گا اور اس عرشہ میں اپنا یہ چراغ رکھوں گا اور ایسا انتظام کروں گا کہ جب میری ایجاد کے نتیجہ میں یہ روشن ہوگا تو اس کی روشنی بنیادوں میں جو مسالہ میں لگاؤں گا اس کو بھی روشن کرے گی۔چنانچہ اس نے ایسا شیشہ بھی ایجاد کیا کیونکہ یہ ایک مقصد تھا اور وہ کر بھی سکتا تھا؟ کی دنیا ہے کہ جو چیز مضبوط بھی ہوا اتنا کہ سات منزلہ مینارہ کا بوجھ اٹھا سکے اور صاف اور شفاف بھی ہو اتنا کہ سات منزلہ اوپر جو چراغ روشن ہے اس کی خواہ ظلی روشنی کیوں نہ سہی بنیادی پتھروں میں وہ دکھا سکے۔چنانچہ اس نے اپنے اس منصو بہ میں اس مقصد کے حصول کے لئے جو اس نے ایک چھوٹی سی دنیا بنائی اور مینار جو اس کی ایجاد کو دنیا میں ظاہر کرے گا اور اس کی ایجاد کی شان ظاہر کرے گا۔اس نے ایسے مضبوط شیشے کی سلوں سے ساتھ منزلہ مینار کی بنیادیں اُٹھا ئیں پھر منزل بمنزل اس کو اوپر اٹھاتا گیا پھر ساتویں منزل ختم ہوئی تو اس کی چھت پر اس نے ایک عرشہ بنایا اور اس پر اپنا ایجاد کردہ چراغ رکھا اور اپنی ایک خاص ترکیب سے جو لاسلکی سے تعلق رکھتی تھی اور موٹی مادی چیز سے اس کا تعلق نہیں تھا۔اس چراغ کو اس نے روشن کر دیا جب وہ چراغ روشن ہوا تو وہ بنیاد کا پتھر جو زمانے کے لحاظ سے کئی سال پہلے بنیاد میں رکھا گیا تھا۔( جس طرح حضرت آدم علیہ السلام کا بنیادی پتھر نبوت کی بنیاد میں رکھا کیا تھا) اور جو اس سے مکان کے لحاظ سے دور بھی تھا زمانہ کا بعد بھی تھا چراغ روشن ہوتے ہیں کیونکہ یہ دنیا ہی ایسے تھی کہ اس مینار میں ایسے پتھر لگائے جائیں گے کہ جب چراغ روشن ہوگا اس کی روشنی نیچے تک آ جائے گی جو اوپر کے پتھر تھے جو اس چراغ سے زیادہ قریب تھے دیکھنے والوں نے انہیں زیادہ روشن پایا جو زیادہ دور تھے دیکھنے والوں نے کئی