خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 24
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۴ ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطار آنکھوں کے سامنے ہوا۔اس کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔پاکستان کی فضائیہ کے پاس جنگی جہاز بڑی کم تعداد میں تھے پھر بھی انہوں نے ایک ایسی حکومت سے مقابلہ کیا جس کے پاس ان سے چھ گنا زیادہ جنگی جہاز تھے انہوں نے اپنی تعداد کے برابر یا اس کے کچھ زیادہ دشمن کے جہازوں کو تباہ کر دیا اور ہمارے صرف بارہ ہوائی جہاز دشمن کے حملہ سے تباہ ہوئے۔ہمارے ایک ہوا باز نے ایک وقت میں دشمن کے پانچ جہاز مار گرائے۔جب اخباری نمائندہ اس کے پاس انٹرویو کے لئے آیا تو اس نے کہا میرا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے مجھے تو صرف اتنا علم ہے کہ ایک وقت میں بھارت کے پانچ جہاز میرے سامنے زاویہ بنا کر لڑے میں بھی ان کے پیچھے اسی زاویہ میں مڑ گیا پھر یکدم میرے سامنے اندھیرا آ گیا میں نے اپنے جہاز کا ایک خاص بٹن دبادیا اور کچھ دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ان میں سے چار جہاز نیچے آرہے تھے اس نے یہ بھی کہا مجھے اپنے کارنامہ پر نہ کوئی فخر ہے اور نہ میں اسے اپنی ذات سے منسوب کرتا ہوں یہ سراسر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو اس نے اس وقت فرمایا۔یہی حال میدانی محاذ کا تھا۔ایک محاذ پر ہمارا صرف ایک بریگیڈ دشمن کی تین ڈویژن فوج کا مقابلہ چار دن تک کرتا ر ہا دشمن کی فوج نے ان چار دنوں میں اس پر چھ یا آٹھ حملے کئے اور ہر دفعہ خدا تعالیٰ نے اس کے حملے کو ایسا ثابت کیا جیسے کوئی دیوانہ پتھر کی دیوار پر سر مارتا ہے اور واپس ہٹ جاتا ہے قرآن کریم نے اس قسم کے مسائل پر بہت کچھ فرمایا ہے۔میں اس تفصیل میں جانا نہیں چاہتا میں اس وقت ایک مضمون کو بطور مثال آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی دو آیتوں میں بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اذْ يُرِيْكَهُمُ اللهُ فِي مَنَامِكَ قَلِيْلًا وَلَوْ أريكَهُمْ كَثِيرًا لَّفَشِلْتُمُ وَلَتَنَازَعْتُمُ فِي الْأَمْرِ وَلَكِنَّ اللهَ سَلَّمَ إِنَّهُ عَلِيْمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ وَإِذْ يُرِيكُمُوْهُمُ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِى أَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَيُقَلِّلُكُمْ فِى عيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُواً وَإِلَى اللهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُه (الانفال : ۴۴، ۴۵) اگر چہ ان آیات میں ایک مخصوص جنگ کی طرف اشارہ ہے لیکن قرآن کریم میں جو