خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 327
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۲۷ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب کیا۔پھر اسم ذات اللہ وہ وجود جو تجمع جمیع صفات کا ملہ حسنہ، یہ ایک لفظ میں پہلی کتابوں نے ہمیں نہیں بتایا کہ ہمارا پیدا کرنے والا کس شان کا ہے ہمیں قرآن کریم نے ہی بتایا۔قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی ہر اس صفت کا بیان کیا ہے جس کا تعلق ہماری ذات ہماری ترقی سے، ہمارے روحانی ارتقاء سے، ہمارے قرب کے حصول سے تعلق ہے ، صراط مستقیم پورے کا پورا ہمارے سامنے اپنی پوری چمک اور پوری روشنی کے ساتھ لا کر رکھ دیا اور کہا یہ راستہ ہے۔تمہیں طاقت دی گئی ہے لیکن تمہیں اختیار بھی دیا گیا ہے چاہو تو اس راہ کو اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں کو حاصل کر لو اور اگر چاہو تو خدا سے منہ موڑو اور اندھیروں کی طرف چلے جاؤ۔رحمت سے بھی محروم ہو جاؤ اور اپنا وجود بھی کھو بیٹھو۔اندھیرے میں تو انسان کو اپنا ہاتھ بھی نظر نہیں آتا۔بہر حال قرآن کریم آدم ہے تمام آسمانی کتابوں کا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل جس قدر شرائع ( شریعتیں) نازل ہوئیں ان سب کا آدم قرآن ہے کیونکہ وہ قرآن کریم کا ہی ایک حصہ ہیں اور قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس میں اللہ اور اس کی تمام صفات کا ملہ حسنہ کا ذکر ہے مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم پر خدائے رحمن کا جلوہ نازل ہوا اور اسی وجہ سے وہ اسلام پر بہت سے اعتراض کر دیتے ہیں لیکن صفت رحمانیت کا جو اصل مفہوم اور معنے ہیں اور قرآن کریم نے بیان کیا ہے بنی اسرائیل اس سے نا آشنا ہیں اور اسے سمجھتے ہی نہیں لیکن قرآن تمام کی تمام صفات الہیہ کا مظہر ہے اور اسی وجہ سے یہ پہلے صحف آسمانی کا آدم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔” ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کے نام اپنے اندر جمع رکھتے ہیں کیونکہ وہ وجود پاک جامع کمالات متفرقہ ہے۔پس وہ موسی" بھی ہے عیسی بھی اور آدم بھی اور ابراہیم بھی اور یوسٹ بھی اور یعقوب بھی۔اسی کی طرف اللہ جل شانه اشارہ فرماتا ہے۔فَبِهُدُهُمُ اقْتَدِهُ یعنی اے رسول اللہ تو ان تمام ہدایات متفرقہ کو اپنے وجود میں جمع کر لے جو ہر ایک نبی خاص طور پر اپنے ساتھ رکھتا تھا۔پس اس سے ثابت ہے کہ تمام انبیاء کی شانیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں شامل تھیں اور در حقیقت محمد کا نام صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ محمد کے یہ معنے ہیں کہ بغایت تعریف کیا گیا اور غایت درجہ کی تعریف تبھی متصور