خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 324
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۲۴ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب بیان کیا ہے انہوں نے اس حدیث کو اپنا لیا ہے۔میں صرف یہاں تک ہی آیا ہوں کہ علمائے اسلام کے نزدیک اس حدیث میں کوئی کلام نہیں کہ واقعہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آدم کی پیدائش سے پہلے بلکہ کائنات کی پیدائش سے بھی پہلے میں خاتم النبین تھا انسان کامل تھا، حقیقی معنوں میں اشرف المخلوقات میں ہی تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ہمیں یہی بتایا ہے۔آپ فرماتے ہیں :۔( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے اس مضمون کے اب میں پڑھوں گا ایک اور شہادت کہ یہ حدیث پڑے پایہ کی ہے ) بلا شبہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدم ثانی تھے (غلط نہی پیدا ہوسکتی تھی آدم ثانی میں تو آپ نے وضاحت فرما دی ) بلکہ حقیقی آدم وہی تھے جن کے ذریعہ اور طفیل سے تمام انسان فضائل کمال کو پہنچے اور تمام نیک قو تیں اپنے اپنے کام میں لگ گئیں اور کوئی شاخ فطرت انسانی کی بے بارو بر نہ رہی اور ختم نبوت آپ پر نہ صرف زمانہ کے تأخر کی وجہ سے ہوا؟ بلکہ اس وجہ سے بھی کہ تمام کمالات نبوت آپ پر ختم ہو گئے اور چونکہ آپ صفات الہیہ کے مظہر اتم تھے اس لئے آپ کی شریعت صفات جلالیہ و جمالیہ دونوں کی حامل تھی اور آپ کے دو نام محمد اور احمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی غرض سے ہیں اور آپ کی نبوت عامہ میں کوئی بخل کا نہیں بلکہ وہ ابتداء سے (یعنی آدم سے لے کر ) تمام دنیا کے لئے ہے۔لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۰۷) اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ :۔" قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لتُؤْمِنُ بِهِ وَ لَتَنْصُرُنَّهُ پس اس طرح انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہوئے۔“ ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۰۰) که قرآن کریم کے متعلق یعنی آپ کی قوت قدسیہ یہ تھوڑی سی میں وضاحت کر دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ کامل قو تیں اور طاقتیں اور استعداد میں موجود تھیں جو انسان کو اس ارفع مقام تک جس ارفع مقام تک کسی اور انسان کا پہنچنا ممکن نہیں پہنچا سکتی تھیں۔ان قوتوں اور