خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 322 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 322

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۲۲ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب میرا بیان نہیں۔گو میں اس کی تائید میں ہی ہوں لیکن بیان محی الدین ابن عربی کا ہے اور پھر خیال ہوتا تھا یعنی انسان جب بات کرتا ہے تو خود ہی اس کے دماغ میں آتا ہے کہ پھر وہ کون ہے؟ کہ وہ ولایت خاصہ کی انتہاء تک پہنچنے والا کون انسان ہے؟ آپ فرماتے ہیں ولایت خاصہ کی بھی انتہا اس سے ہو کہ ہاں ) اُس سے ہو کہ جس کا نام آپ کے نام کی طرح ہو اور وہ مہدی ہے کہ جو آپ کی عترت سے ہے یعنی ( وہ مہدی جس کو مسیح) مهدی المنتظر (جس کا انتظار کیا جارہا ہے) اور یہ مہر یعنی انجام ( یعنی خاتم النبین میں بھی مہر ہے نا! تو یہ کہتے ہیں کہ یہ انجام ) آپ کی جنسی نسل سے ( تعلق نہیں رکھتا کہ فاطمہ میں سے وہ ہوگا ) بلکہ آپ کے صفات اور اخلاق کی نسل سے ہے۔( ترجمہ فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحہ۵۵،۵۶) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جیسا کہ میں نے انصار اللہ کے اجتماع پر ایک مضمون کے ضمن میں بتایا تھا۔فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقدر کیا تھا کہ موسوی خلفاء کی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کے درمیان بارہ خلفاء ہوں جن کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم سے ہو اور تیرھواں وہ ہو جو بن باپ ہونے کی وجہ سے آپ کی قوم کی طرف منسوب نہ ہو سکتا ہو۔اسی طرح امت محمدیہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مقدر تھا کہ اس سلسلہ کے بارہ خلفاء، بارہ مجددین قریش میں سے ہوں اور تیرھواں یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہ ہو جو خون کے رشتہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق نہ رکھتا ہو۔یہ بھی تعلق ہے کیونکہ آپ نے فرمایا ہے میں اور وہ دونوں ایک ہیں۔محی الدین ابن عربی کہتے ہیں کہ وہ ایک خونی رشتہ کی وجہ سے نہیں بلکہ صفاتی اور اخلاقی رشتہ کی وجہ سے وہ دونوں ایک ہو گئے ہیں جو صفات تمہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نظر آتی ہیں اور جو خلق عظیم تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں مشاہدہ کرتے ہوا بن عربی کہتے ہیں کہ وہی صفات اور وہی خلق تم مهدی المنتظر میں مشاہدہ کہ گے جو ہمارے لیے ظاہر ہو گیا اور ان صفات کا ہم نے مشاہدہ کیا۔اسی طرح امیر خسرو کہتے ہیں کہ: حضرت نبی کہ بنائے ہر دو عالم۔از نور نبوت اوست - و نبوت آدم از نبوت او ( مثنوی مطلع الانوار صفحه ۱۷)