خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 321
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۲۱ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب کہ قرآن کریم میں آتا ہے اُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الكِتب “ (ال عمران : ۲۴) آگے جا کر اگر مجھے وقت ملا تو تفصیل سے روشنی ڈالوں گا۔بہر حال وہ ولایت عامہ ہے لیکن جس وقت آپ تشریف لے آئے اور الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي ( المايدة بم) کا ایک شیریں کلام اللہ تعالیٰ کی زبان سے بنی نوع انسان نے سنا تو یہ ممکن ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض سے آپ کے بعد پیدا ہونے والے اور آپ میں فنا ہو کر وہ ان برکات کو حاصل کر سکتے ہیں۔جو پہلوں کے لیے ممکن نہیں تھا کیونکہ پورا قرآن ان کے سامنے نہیں تھا اور جو پہلوں نے آپ کے کمالات سے حصہ لیا اور ظلی طور پر اللہ تعالیٰ کی برکتیں حاصل کیں وہ ولایت عامہ کے نیچے تھے کیونکہ میں نے بتایا ہے کہ ابھی قرآن پورا نازل نہیں ہوا تھا اور ان میں سب سے اوپر حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں جیسا کہ معراج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور قرآن کریم کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام میرے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔معراج میں بھی آپ نے یہی دیکھا۔وہ ولایت عامہ کی دنیا ہے۔اب تو دنیا بھی دو ہوگئیں ایک حصہ کا تعلق ولایت عامہ کے ساتھ ہے جو قبل از بعثت نبوی کی دنیا ہے اور ایک حصہ کا تعلق ولایت خاصہ سے ہے جو بعد کی دنیا ہے۔ولایت عامہ کی دنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تر جو فرد ہوا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات ہے اور اسی کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ ساتویں آسمان پر دکھائی دیئے دوسرے وجود جو انبیاء کے تھے وہ ساتویں آسمان پر نہیں پہنچ سکے اور ولایت خاصہ میں یعنی اس دنیا میں ہی جس کا تعلق آپ کی بعثت کے بعد کے ساتھ ہے اس کے متعلق حضرت ابن عربی ” ہی فرماتے ہیں کہ آپ کے بعد ( ولایت خاصہ کا زمانہ شروع ہو گیا نا! ان کے محاورے کے مطابق۔۔۔آپ کے مخصوص مقام کا نزول ہوا ( سارا قرآن آ گیا۔پوری شان سے آپ ظاہر ہو گئے ) اور مستحق قرار دیا گیا کہ آپ کی ولایت خاصہ کی بھی انتہا ہو کہ یعنی کوئی ایسا شخص پیدا ہو جو ولایت خاصہ میں روحانی طور پر آپ کے قریب تر پہنچے اور آپ کے قرب میں بعد میں پیدا ہونے والوں میں سے اسے ارفع تر مقام حاصل ہو۔یہ ابن عربی ” کہہ رہے ہیں یعنی یہ