خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 288 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 288

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸۸ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ اس قابل نہیں کہ انعامی مقابلہ میں حصہ لیں۔اس لئے وہ گر گئے ہیں باقی سولہ جو ہیں وہ اس وقت مختلف مراحل میں ہیں اور امید ہے کہ جلدی اس کا نتیجہ نکل آئے گا اور یہ مقصد ایک حد تک پورا ہو جائے گا۔یہ ابھی پہلا مقابلہ ہے اور یہ ہر سال جاری رہنا چاہئے۔مجھے بتایا گیا ہے کہ دوسرے مقابلہ کا کام بھی شروع ہو چکا ہے اور میں مقالے آچکے ہیں۔پھر یہ انتقام کیا گیا ہے کہ یہ مقالے شائع بھی کئے جائیں کیونکہ غرض ہی یہ ہے کہ دنیا میں تحقیقی کام کی اشاعت ہو۔فضل عمر لائبریری کا قیام فضل عمر فاؤنڈیشن نے یہ پیشکش کی تھی کہ ایک اچھی اور ضرورت کے مطابق وسیع لائبریری کی عمارت وہ بنادے۔پھر اس کا انتظام اور روز مرہ کے اخراجات کا انتظام صدر انجمن احمد یہ کرے۔اس لائبریری کے نقشے وغیرہ تیار ہو گئے ہیں ابتدائی کام ذرا مشکل ہوتا ہے اور پھر یہ خاموش کام ہے نظر نہیں آتا بہر حال کام ہو رہا ہے اور امید ہے کہ یہ عمارت اگلے سال شروع ہو جائے گی۔لائبریریوں کے متعلق میں ایک اور بات بھی کہہ دیتا ہوں اور وہ یہ کہ لائبریریوں کی طرف جماعت کو توجہ نہیں جہاں توجہ پیدا ہوتی ہے وہاں غلط توجہ پیدا ہو جاتی ہے۔لائبریری کا مقصد یہ ہے کہ ایسی کتابیں رکھی جائیں جو کتاب بینی کے روحانی شوق کو پورا کرنے والی ہوں روحانی کے لفظ کا اضافہ میں جان بوجھ کر کر رہا ہوں۔کتاب بینی کا شوق پورا کرنے کے لئے لوگ عمر عیار کی عیاریاں بھی پڑھتے ہیں اور حمید و فریدی کے ناولوں کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔حالانکہ وہ بالکل بے معنی ہیں۔گو وہ بڑی کثرت سے بک رہے ہیں لیکن وہ انسان کی روحانی پیاس نہیں بجھاتے اور لائبریری کا مقصد روحانی پیاس کے بجھانے کے سامان پیدا کرنا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم لائبریریوں کے قیام کی طرف توجہ نہیں کریں گے تو ہماری روحانی پیاس نہیں بجھے گی اور ہمارے اندر روحانی کمزوری پیدا ہو جائے گی اور یہ ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا جو احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب نہیں پڑھتا یا اس تفسیر سے واقف نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یا خلفاء سلسلہ احمدیہ اور پہلے بزرگوں نے کی یا جو شخص -----