خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 255 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 255

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۵۵ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب تینوں میں اپنا دیواں گا کہ تو رج جائیں گا۔اس کے بعد کئی دفعہ ( پتہ نہیں کہ اس میں بھی کوئی غلطی ہو اللہ تعالیٰ معاف کرے) میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس وعدہ کو پورا کہا اور ایک دفعہ ایسا موقع بھی آیا کہ بعض دوستوں کے گھروں میں ایسی تقریبات اکٹھی ہو گئیں کہ میرا دل چاہتا تھا کہ میں ہر دوست کو بطور تحفہ کم از کم سو روپیہ دوں۔میری جیب میں دو سو روپے تھے اور ضرورت مجھے چھ سات سو روپیہ کی۔مجھے اس وقت خیال آیا بعد میں بھی اللہ تعالی سے بڑی مغفرت چاہی اور اب بھی چاہتا ہوں بہر حال یہ ایک واقعہ ہے کہ دیکھیں میرا رب جس نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا وہ اسے کس طرح پورا کرتا ہے۔چنانچہ آگے پیچھے موقعے تھے میں نے ایک کو دیا اور پھر دوسرے کو دیا اور دوسو روپیہ میری جیب میں موجود تھا جو ختم ہو جانا چاہئے تھا لیکن قبل اس کے کہ دوسرے دوست کے پاس میری طرف سے وہ روپیہ پہنچتا۔سو یا دو سور و پیر اور میری جیب میں آ گیا اور جب میں اس طرح سات سور و پیدا اپنے بعض دوستوں کو دے کر خوش ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق عطا کی ہے کہ میں ان کی خوشی میں شریک ہوں تو اس وقت بھی میری جیب میں پیسے پڑے ہوئے ہیں۔تو ہزاروں قسم کے نظارے بھی انسان دیکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی قدرتوں والا اور اللہ تعالیٰ بڑا پیار کرنے والا ہے۔ہم ہی اس سے غافل ہو جاتے ہیں اور اس طرح اس کے فضلوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔تو دوسرا پہلو جو بنیادی ہے جو علم اور عقل ہمارے اندر ہونی چاپچس طرح بدیوں سے رکنے کی عقل ہمارے اندر ہونی چاہئے ویسے ہی یہ عقل بھی ہمارے اندر ہونی چاہئے کہ ہمارا اللہ ( جس رنگ میں کہ قرآن کریم نے اسے ہمارے سامنے پیش کیا ہے ) تمام صفات حسنہ سے متصف ہے۔تمام قدرتوں کا مالک ہے اور وہ ہماری ہر ایک ضرورت کو پورا کر سکتا ہے اور عاجزی کے وقت وہی ایک ذات ہے جو ہمارے کام آ سکتی ہے۔اگر یہ صفت ہمارے اندر ہوتو ہم بڑی دلیری کے ساتھ دنیا میں اسلام کے مخالفوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔تو کل کے بغیر ہم اسلام کے مخالفوں کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے۔جب میں نے اسماعیل صاحب منیر کو یہ لکھا کہ کمزوری نہ دکھاؤ۔دھڑلے سے اس پادری کو خود چیلنچ دو۔جب میں نے عبدالسلام میڈیسن تو یہ کہا کہ جھوٹے خدا ان مدعیان پرانسی (Prophecy) کے کام نہیں آئیں گے۔( بعض پیشگوئیوں اعلانانہوں نے کئے تھے ) اور جو زندہ خدا ہے۔اس کا یہ منشاء نہیں کہ ان کی بات پوری ہو کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام