خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 245 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 245

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۴۵ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب جواہرات اور سونا اور دوسری معدنیات اور یہ درخت اور یہ کھیتیاں جب سے یہ پیدا ہوئی ہے زمین اس وقت تک کہ جب یہ ختم ہو، اور پھر ستارے۔ان سب کی تم اپنے تصور میں قیمت لگاؤ اس قیمت سے زیادہ قیمت ہے اس جنت کی جو میں نے تمہارے لئے تیار کی ہیں۔ان انعامات کے حصول کے لئے سابقوا ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔کون زیادہ انعام حاصل کرتا ہے۔ہر ایک کو کم از کم جو انعام ملے گا جس کی قیمت اس عالمین کی قیمت ہے یعنی یہ زمین اور آسمان اور اس کے ستارے جہاں تک ہمارے وہم بھی ابھی تک نہیں پہنچے وہ موجودات جو ہیں ان کی جو بھی قیمت ہے اس سے زیادہ کم سے کم اس جنت کی قیمت ہے اور اس سے زیادہ بھی انعام ملے گا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کم سے کم انعام جب اتنا بڑا ہے تو تم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ دوسروں سے آگے بڑھے اور دوسرے بھائیوں سے زیادہ انعام حاصل کرے۔دوسروں سے زیادہ قربانیاں دے خدا کی راہ میں دوسروں کی نسبت زیادہ تکالیف اور اذیتیں برداشت کرنے والا ہو راتوں کو زیادہ جاگنے والا ہو۔دنوں کو زیادہ اپنے اوقات کو خدا کے لئے خرچ کرنے والا ہو۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا سا بقوا لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ تمہاری کوششیں کافی نہیں اس لئے ہم نے ان جنتوں کے حصول تمہارے لئے ممکن بنانے کے لئے اس جنت کے ایک طرف اپنی مغفرت کو رکھا ہے اور جنت کے دوسری طرف اپنے فضل کو رکھا ہے سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمُ اور آخر میں کہا ذلِكَ فَضْل الله اور درمیان میں کہا جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ تو ہمیں یہ بتایا کہ اتنا بڑا انعام ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ تم اپنی کوششوں کو اگر انتہا تک بھی پہنچا دو تو تم صرف اپنے عمل کی وجہ سے اس انعام کے مستحق نہیں ہو سکتے اور ہم چاہتے ہیں کہ تمہیں یہ انعام ملے۔اس لئے ہم نے اس انعام کو تمہارے لئے ممکن بنانے کے لئے یہ طریق اختیار کیا ہے کہ جنت کے ایک طرف اپنی مغفرت رکھ دی ہے اور دوسری طرف اپنے فضل کو رکھ دیا ہے۔اس لئے تمہیں مل جائے گا لیکن ایک شرط ہے کہ تم سابقوا کا نمونہ دکھاؤ۔ایک دوسرے سے مسابقت اختیار کرو اور یہ ذمہ داری ہم تم پر ڈالتے ہیں۔پھر جو خامی رہ جائے گی اس کی تمہیں کوئی فکر نہیں کرنی چاہئے تمہیں غم نہیں کرنا چاہئے یہ جنت تمہیں مل جائے گی یہ عظیم انعام تمہیں مل جائے گا۔تو ہماری جماعت میں روح مسابقت قائم رہنی چاہئے یعنی یہ نہیں کہ بعض جماعتیں کہیں کہ کراچی