خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 204
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) اور اسلام کی حقانیت ان پر واضح ہوئی۔۲۰۴ ۱۲ جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار غرض تین ممالک کے نمائندے اس وقت ہمارے سامنے آئے انہوں نے اپنے بعض جذبات اور خیالات کا اظہار کیا اور ہماری توجہ اور ہمارے خیالات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی طرف لوٹے اور اس طرف رجوع کیا اور جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے ہم نے یہ دیکھا کہ و ہ آواز جس کو یہ کہا گیا تھا کہ قادیان کی گلیوں میں بھی بلند ہونے نہیں دی جائے گی وہ دنیا کی فضا ؤں میں گونجی اور گونج رہی ہے اور گونجتی چلی جائے گی۔بس جن محبت کے جذبات کا انہوں نے اظہار کیا ہے میں اپنی طرف سے اور آپ سب کی طرف سے ان تمام جماعتوں کو جن کی محبت کا اظہار یہاں کیا گیا ہے اور جن کا سلام ہمیں پہنچایا گیا ہے۔السلام علیکم پہنچا تا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ہمارا خدا جس طرح ہم پر صبح و شام اپنی رحمتوں کا نزول کرتا چلا آیا ہے اور کرتا چلا جارہا ہے اسی طرح وہ ان تمام جماعتوں پر بلکہ جہاں جہاں احمدی ہیں ان پر رحمتوں کو نازل کرتا چلا جائے اور ہر طرح ان کو اپنی حفاظت اور امان میں رکھے۔دوران سال اکیس مبلغ پاکستان سے باہر گئے اور سترہ مبلغ اپنے کام کا زمانہ پورا کر کے واپس آئے انشاء اللہ پھر جلدی واپس چلے جائیں گے۔مساجد۔نائیجیریا میں پانچ نئی مساجد زیر تعمیر ہیں سیرالیون میں جماعت کے ایک سیکنڈری سکول میں ایک مسجد بھی تعمیر کی جارہی ہے۔کوپن ہیگن (ڈنمارک) میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کی دی ہوئی توفیق سے ہماری احمدی مستورات نے اللہ کا نام بلند کرنے کے لئے ایک مسجد تعمیر کی ہے جو اس سال مکمل ہوئی اور جس کے افتتاح کے لئے علاوہ اور مقاصد کے مجھے کوپن ہیگن اور یورپ کے دوسرے ملکوں میں جانا پڑا۔اب اس کے ساتھ ہی میں اپنے سفر کے متعلق اللہ تعالیٰ کے بعض نشانوں کا ذکر کروں گا اور اس کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم الشان نشان ظاہر کیا ہے اس کا بھی ذکر کروں گا۔سفر سے پہلے میرے دو جذبات تھے۔ان کا اظہار میں نے اسی وقت کر دیا تھا اور وہ اخبار کے ذریعے دوستوں کے سامنے آچکے ہیں۔ایک طرف تو میرے دل میں شدید تڑپ پیدا ہوتی تھی کہ میں یورپ کے ملکوں میں بسنے والوں کو اپنے پیدا کرنے والے رب کا یہ پیغام پہنچا دوں کہ