خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 203
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ٢٠٣ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار چنگا کروں پر چار کے دوران میں ہی بیماریوں کو دور کرنے کا دعوی بھی کرتا ہے اور شاید دو چار فیصدی کو مسمریزم کی وجہ سے فائدہ بھی ہو جاتا ہوگا۔یہاں کے لوگ اس کا شکار بآسانی ہور۔ہیں عیسائی ہندو اور مسلمان بھی۔ہم نے اس پادری کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا چیلنج پیش کیا ہے کہ ہم چالیس مریض لے لیں دس یورپین ، دس انڈین، دس چینی اور دس کریول (Creole) جو وہاں کے مقامی ہیں اور نصف نصف بانٹ کر دعا کریں پھر دیکھیں گے کہ کیا اسلام کا خدا ہماری مدد کرتا ہے یا مسیح ناصری تمہاری سنتا ہے آج پمفلٹ کا پروف دیکھ چکا ہوں اور دو پہر تک پانچ ہزار چھاپ کر آج ہی تقسیم کر دیں گے اور اس کے بعد انہوں نے یہ فقرہ کہہ دیا کہ اس معاملہ میں مزید راہنمائی کے بھی محتاج ہیں۔پہلے تو میں بڑا خوش تھا کہ وہ دلیری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔لیکن جب یہ فقرہ پڑھا تو میری طبیعت میں یہ احساس پیدا ہوا کہ کہیں ڈر نہ جائیں اور کمزوری نہ دکھا جائیں۔میں نے اسی وقت ان کو جواب دیا کہ آپ دلیری سے اور بے دھڑک ہو کر یہ چیلنج دیں۔آپ جیتیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔چنانچہ اس کے بعد ان کا یہ خط ملا ہے۔جو ۱۲ار دسمبر کا لکھا ہوا ہے۔کہ حضور کا حوصلہ افزائی کا خط ملا ہم نے اس پادری کو بے دھڑک چیلنج دیا ہے۔پمفلٹ ہزاروں کی تعداد میں شائع کیا۔مگر وہ مقابلہ پر آنے سے بھاگ گیا بلکہ ہمارا شہر روز ہل چھوڑ کر دوسری ایک جگہ چلا گیا ہے۔“ زندہ خدا کی زندہ محبت کے یہ نظارے آج دنیا میں اسلام کو غالب کر رہے ہیں۔مغربی اور مشرقی افریقہ میں جب وہ لوگ جن کو ہزاروں سال سے دنیا حقارت سے دیکھتی چلی آرہی ہے۔احمدیت اور اسلام کے ذریعہ یہ تجربہ حاصل کرتے ہیں کہ ان کا خدا ان سے پیار کرنے والا ہے اور وہ اپنے پیار کو اپنے زندہ نشانوں سے ظاہر کرنے والا ہے تو ان کے دلوں میں اتنی پختہ محبت اسلام سے اور اسلام کے خدا سے پیدا ہو جاتی ہے کہ آپ اس کا اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔ہزار ہا نشانات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں افریقہ میں پیدا ہونے والے اور دنیا کی ذلتیں برداشت کرنے والے حبشیوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اس طرح پر اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے دلوں میں پیدا ہوئی